عصرِ جدید کا مذہب
Urdu book, p. 297
By Maulana Wahiduddin Khan
فلسفہ اور سائنس کے معیار پر اسلام کا پورا اترنا اب ایک ایسی کھلی حقیقت بن چکی ہے کہ اس اعتبار سے اب اسلام کو کوئی سنجیدہ چیلنج درپیش نہیں۔ جدید انسان کو یہ ماننے میں کوئی تامل نہیں کہ جہاں تک فلسفیانہ معیار یا سائنسی حقائق کا تعلق ہے، اسلام کی صداقت غیر مشتبہ طور پر ثابت شدہ ہے۔ تاہم پچھلی صدیوں میں اسلام کے نام پر جولد رائیاں ہوئیں، نیز موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں اسلام کے نام پر جو پرتشدد تحریکیں چل رہی ہیں، انھوں نے جدید انسان کی نظر میں اسلام کی یہ تصویر بنائی ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو اپنے مقصد کو تشدد اور جنگ کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ ہر طرف یہ کہا جانے لگا ہے کہ اسلام ایک ملٹنٹ مذہب ہے، اور ملٹنٹ مذہب موجودہ زمانہ میں سرے سے قابل عمل ہی نہیں، اس لیے وہ قابل قبول بھی نہیں ہو سکتا۔ گویا پچھلے دور کا انسان اگر یہ کہتا تھا کہ اسلام کو ہم اس وقت مانیں گے جب کہ تم اس کو فلسفہ اور سائنس کے معیار پر ثابت کر کے دکھاؤ، تو آج کا انسان یہ کہہ رہا ہے کہ اسلام ہمارے لیے اس وقت قابل قبول ہو سکتا ہے جب کہ تم یہ ثابت کرو کہ اسلام کا مل معنوں میں ایک امن پسند مذہب ہے، وہ جنگ کے بغیر انسانی تعمیر کا نقشہ پیش کر سکتا ہے۔ میں کہوں گا کہ یہاں بھی اسلام کی پوزیشن وہی ہے جو سائنسی چیلنج کے مقابلہ میں تھی۔ اسلام پیشگی طور پر سائنسی معیار کے مطابق تھا، چنانچہ جب سائنس کا دور آیا تو علماءِ اسلام کو صرف یہ کرنا پڑا کہ وہ از سر نو اسلام کے مقدس متن کا مطالعہ کر کے ان پہلوؤں کی نشان دہی کر دیں جو جدید سائنسی معیار کی تصدیق کرنے والے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام پیشگی طور پر ہی ایک پر امن مذہب ہے۔ وہ کلی طور پر جنگ کا مخالف ہے۔ اسلام میں جنگ کی ایک ہی صورت رکھی گئی ہے، اور وہ دفاع ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader