عصرِ جدید کا مذہب
Urdu book, p. 298
By Maulana Wahiduddin Khan
اب جبکہ موجودہ زمانہ میں تمام قومیں جنگی اقدام کو اپنے لیے خارج از بحث قرار دے چکی ہیں۔ مشترکہ طور پر تمام قوموں نے اپنے اوپر اقوام متحدہ کی صورت میں ایک عالمی نگران مقرر کر دیا ہے تاکہ کوئی قوم کسی قوم کے اوپر جارحیت نہ کرنے پائے۔ جدید حالات جنگ کے لیے ایک مانع عامل (deterrent factor) کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اب یہاں نہ کوئی کسی کے خلاف جنگی اقدام کرنے والا ہے اور نہ کسی کے لیے یہ مسئلہ پیدا ہونے والا ہے کہ وہ دفاع کی ضرورت کے تحت کسی سے لڑائی کرے ۔ شرعی اعمال کی مطلوبیت کے بارے میں فقہانے دو تقسیمیں کی ہیں۔ ایک وہ جو حسن لذاتہ ہیں ۔ اور دوسرے وہ جو حسن لغیرہ ہیں۔ اول الذکر سے مراد وہ اعمال ہیں جو خود اپنی ذات میں مطلوب ہوتے ہیں، اور ثانی الذکر سے مراد وہ اعمال ہیں جو کسی اور سبب سے مطلوب بن جاتے ہیں۔ پہلی قسم کے اعمال کی مطلوبیت دائمی ہے، اور دوسری قسم کے اعمال کی مطلوبیت وقتی یا اضافی۔ قتال یا جنگ شریعت میں حسن لذاتہ نہیں ہے بلکہ وہ حسن لغیرہ ہے۔ یعنی اگر جنگ کا متعین سبب پایا جائے تو اس وقت جنگ کی جائے گی۔ اور اگر سبب نہ پایا جائے تو ہرگز جنگ نہیں کی جائے گی۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت کا مطالعہ کیجئے۔ قرآن میں ایک آیت معمولی لفظی فرق کے ساتھ دو جگہ آئی ہے۔ سورہ البقرہ (2:193)، اور سورہ الانفال (8:39) ۔ آخر الذکر آیت یہاں نقل کی جاتی ہے: "وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ" ۔ یعنی، اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ دیکھنے والا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader