عصرِ جدید کا مذہب
Urdu book, p. 299
By Maulana Wahiduddin Khan
فتنہ کے لفظی معنی آزمائش اور ابتلاء ہیں (لسان العرب، جلد 13، صفحہ 317)۔ صحیح بخاری (کتاب النکاح) میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5096)۔ یعنی، میں نے اپنے بعد کوئی آزمائش نہیں چھوٹی جو مردوں کے اوپر عورتوں سے زیادہ ضرر رساں ہو۔ مذکورہ آیت میں فتنہ کا لفظ بھی اسی معنی میں ہے۔ امام حسن بصری تابعی (110-21ھ) نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ کا مطلب ہے: حَتَّى لَا يَكُونَ بَلَاء (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 248)۔ یعنی، ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ آزمائش کی حالت باقی نہ رہے۔ اس آیت میں فتنہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو مذہبی ایذارسانی ( religious persecution) کہا جاتا ہے۔ اسلام سے پہلے پوری تاریخ میں مذہب کی آزادی نہ تھی۔ جو طبقہ برسر اقتدار ہوتا وہ اپنے سوا دوسرے مذہب کے لوگوں کو اس کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ وہ اس سے الگ کسی اور مذہب کو مانیں، یا کسی اور مذہبی طریقہ پر عمل کریں۔ ساتویں صدی عیسوی کے آغاز میں اسلام جب عرب میں شروع ہوا تو اس وقت وہاں شرک اور مشرکین کا غلبہ تھا۔ انھوں نے پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھیوں کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا۔ کیوں کہ ان کا عقیدہ مشرکین کے عقیدہ سے مختلف تھا۔ وہ ان کے طریقہ کو چھوڑ کر دوسرے طریقہ پر خدا کی عبادت کرتے تھے۔ یہ ظلم و ستم آخر کار جنگ تک پہنچا۔ اس وقت اہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ ان لوگوں سے لڑو، یہاں تک کہ مذہبی جبر کا خاتمہ ہو جائے۔ ہر آدمی اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے کے لیے آزاد ہو جائے۔ آیت کا دوسرا حصہ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ ہے۔ یہ پہلے حصہ کی مزید وضاحت ہے۔ آیت کے پہلے حصہ میں جو بات سلبی انداز میں کہی گئی ہے، اسی بات کو دوسرے حصہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader