اجتہاد کی اہمیت
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح اقبال کا علیحدہ مسلم اسٹیٹ کا نظریہ اور تقسیم کے بعد اٹھنے والی مسلم پرسنل لا تحریک ، بابری مسجد تحریک اس قسم کی تمام تحریکیں تحفظ شریعت کے حکم سے اخذ کی گئی تھیں۔ مگر موجودہ زمانہ میں اسلام اور مسلمانوں کے احیاء کے لیے اس کلی اجتہاد کی ضرورت تھی جو مجموعی مصالح شرعی کی بنیاد پر وضع کیا جائے۔ مگر تمام مصلحین صرف جزئی استنباط کی حد تک پہنچ سکے۔ وہ شریعت کے مجموعی مصالح کے پیش نظر کلی استنباط یا کلی اجتہاد کا ثبوت نہ دے سکے، اس لیے نہ ان کا استنباط مطابق حال تھا اور نہ وہ کسی حقیقی نتیجہ تک پہنچانے کا ذریعہ بنا۔ بعض حالات میں جزئی اجتہاد بھی کافی ہو جاتا ہے، جیسا کہ بنو قریظہ کے واقعہ میں نظر آتا ہے۔ مگر بعض اوقات ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں جب کہ ایسے کلی اجتہاد کی ضرورت ہوتی ہے جس میں مصالح کلی کی رعایت پائی جاتی ہو۔ موجودہ زمانہ میں اسی قسم کے کلی اجتہاد کی ضرورت تھی۔ مگر موجودہ زمانہ کے علماء اسلام اس قسم کے کلی اجتہاد تک نہ پہنچ سکے ، اس لیے وہ ملت کے لیے ایسا اقدام بھی تجویز نہ کر سکے جس میں مصالح کلی کی رعایت پائی جاتی ہو۔ کلی استنباط کے لیے وہ مجتہدانہ بصیرت درکار ہوتی ہے جس کی توجہ جزئیات دین سے زیادہ اساسات دین پر ہو۔ جو احکام شریعت کے ساتھ تاریخ کی طاقتوں کو بھی جانتا ہو۔ جو الفاظ شریعت کے ساتھ اسرار شریعت کی گہرائیوں تک بھی پہنچ چکا ہو۔ جس کے ایمان نے اس کو وہ فراست ربانی عطا کی ہو جب کہ آدمی خدا کی روشنی سے دیکھنے لگے۔ جو علوم الہامی کا عارف ہونے کے ساتھ بصیر آشنا زمانہ کے درجہ پر بھی فائز ہو۔ یہ وہ عالم شریعت ہے جس کی نگاہ وقتی مسائل سے گزر کر دور تر مسائل تک پہنچ گئی ہو۔ جو قریبی حالات سے زیادہ مستقبل کے حالات پر نظر رکھے۔ جو کسی اقدام کے مابعد نتائج کو بھی سمجھنے کی استعداد رکھتا ہو۔ جو رد عمل کی نفسیات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے۔ جو مسائل و مشکلات کے درمیان مواقع اور امکانات کو دریافت کر سکے۔ جو خواہشات انسانی کے دائرہ سے نکل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader