عصرِ جدید کا مذہب
Urdu book, p. 300
By Maulana Wahiduddin Khan
ایجابی انداز میں دہرایا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں آیت کا مطلب یہ ہے کہ ــــ فتنہ کو ختم کر دو، تا کہ عدم فتنہ کی حالت دنیا میں پوری طرح قائم ہو جائے۔ اس آیت میں دین کا لفظ دین شرعی کے معنی میں نہیں ہے بلکہ دین فطری کے معنی میں ہے۔ یعنی اس سے مراد وہ دین نہیں ہے جو الفاظ کی صورت میں ہمیں عطا کیا گیا ہے۔ اس سے مراد وہ قانون فطرت ہے جو غیر ملفوظ طور پر براہ راست خدا کی طرف سے سارے عالم میں نافذ ہے۔ قرآن میں دین کا لفظ اس دوسرے مفہوم میں استعمال ہوا ہے مثلاً فرمایا: وَلَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَهُ الدِّينُ وَاصِباً أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَتَّقُونَ (16:52)۔ یعنی، خدا ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اسی کے لیے دین ہے (ساری کائنات میں) ہمیشہ، پھر کیا تم اللہ کے سوا کسی اور سے ڈرتے ہو۔ سورہ نحل کی اس آیت میں دین سے مراد وہ دین فطری یا قانون فطری ہے جو بالفعل ساری کائنات میں مستقل طور پر ہر آن قائم ہے۔ اس معلوم واقعہ کو بطور شہادت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ جب اللہ کی قدرت اتنی زیادہ ہے کہ وہ ساری کائنات کو ہر آن ابدی طور پر مسخر کیے ہوئے ہے تو تم کو اسی سے ڈرنا چاہیے، اور اپنی آزادی کو اسی کی ماتحتی کے دائرہ میں استعمال کرنا چاہیے۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں انسان کے لیے ہدایت کا کامل سامان موجود ہے۔ ایک طرف انسان کی نفسیاتی ساخت میں توحید کا شعور پیوست کر دیا گیا ہے۔ پھر کائنات میں ہر طرف حق کی نشانیاں بکھیر دی گئی ہیں، اسی کے ساتھ پیغمبروں کے ذریعہ لفظی اعلان کی صورت میں بھی اس کا براہ راست اہتمام کیا گیا ہے۔ تاہم امتحان کی مصلحت کی بنا پر انسان کو قبولیت پر مجبور نہیں کیا گیا۔ انسان کے لیے کامل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader