Urdu book · فکر اسلامی

عصرِ جدید کا مذہب

Urdu book, p. 301

By Maulana Wahiduddin Khan

آزادی ہے کہ وہ چاہے تو مانے اور چاہے تو نہ مانے: إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِراً وَإِمَّا كَفُوراً (76:3)۔ یعنی، اللہ نے انسان کو راستہ دکھادیا ہے۔ اب وہ شکر کرنے والا بنے یا انکار کرنے والا بنے۔ دوسری جگہ فرمایا: وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُر (18:29)۔ یعنی، کہو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے۔ پس جو شخص چاہے اسے مانے اور جو شخص چاہے انکار کرے۔ یہ خدا کا منصوبہ تخلیق ہے۔ اس منصوبہ کے مطابق لازماً ایسا ہونا چاہیے کہ دنیا میں لوگوں کو انتخاب کی پوری آزادی ملی ہوئی ہو۔ مگر قدیم بادشاہی دور میں جو مذہب ہی جبر رائج ہو وہ خدا کے اس نقشہ میں مداخلت کے ہم معنی تھا۔ خدا چاہتا ہے کہ انسان کو آزادی دے کر اس کا امتحان لے۔ لیکن مذہبی جبر کے ماحول نے انسان سے انتخاب (چوائس) کی یہ آزادی چھین لی۔ اس نظام کے تحت وہ صرف حکمراں کے مذہب کو اختیار کر سکتا تھا، کسی اور مذہب کو نہیں۔ چنانچہ حکم دیا گیا کہ اس جبری حالت (فتنہ) کو ختم کر دو، تاکہ فطری دین (بالفاظ دیگر، خدا کا فطری انتظام) اپنی اصل حالت پر قائم ہو جائے۔ رسول اور اصحاب رسول نے قدیم عرب میں یہی کام کیا۔ انھوں نے جہاد کر کے فتنہ کو ختم کیا۔ اس کے بعد وسیع تر سطح پر جو سماجی اور سیاسی اور فکری انقلاب آیا وہ ایک مسلسل عمل (پرا سس) کے طور پر انسانی تاریخ میں شامل ہوگیا۔ یہ تاریخی عمل چلتا رہا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں آکر وہ اپنی آخری حد پر پہنچ گیا۔ اب اقوام متحدہ کے تحت قوموں نے باضابطہ طور پر یہ عہد کیا کہ ہر ایک اپنے علاقہ میں بسنے والے لوگوں کو کامل مذہبی آزادی دے گا۔ کسی کو بھی یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ دوسرے کے مذہب کے اوپر پابندی لگائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page