عصرِ جدید کا مذہب
Urdu book, p. 302
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ صورت حال اب ساری دنیا میں عملاً قائم ہو چکی ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان جو اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہے۔ اس نے اپنے دستور کی دفعہ 25 میں ہر ہندوستانی شہری کا یہ بنیادی حق قرار دیا ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے مانے، اس پر عمل کرے اور اس کی تبلیغ کرے ۔ اب جب کہ مذہبی آزادی کا حق مل چکا تو اس کے بعد قتالِ فتنہ کے حکم پر عمل کرنا اس وقت تک موقوف رہے گا جب تک مذہبی آزادی کا یہ حق ہمیں حاصل ہے۔ اب ہمارا اصل کام اس ملی ہوئی آزادی کو استعمال کر کے اصلاح و تعلیم اور دعوت و تبلیغ جیسے تعمیری میدانوں میں سرگرم عمل ہونا ہے، نہ کہ بے فائدہ طور پر لوگوں سے جنگ چھیڑ کر دوبارہ اپنے لیے مواقع کار کو مسدود کر لینا ۔ مسٹر جیم موراں امریکہ کی خارجی امور کی اعلیٰ کمیٹی کے ممبر ہیں۔ ان سے استاذ احمد منصور نے واشنگ턴 میں ایک انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو کویت کے عربی مجلہ مجتمع (15-1 مارچ 1996ء) میں چار صفحات پر شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان ہے: اَلْقَرْنُ الْقَادِمُ هُوَ قَرْنُ الْإِسْلَام ۔ یہ عنوان ان کے ان الفاظ سے لیا گیا ہے کہ میرا یقین ہے کہ اکیسویں صدی اسلام کی صدی اور اسلامی ثقافت کی صدی ہوگی (فَإِنِّي أَعْتَقِدُ أَنَّ الْقَرْنَ الْحَادِيَ وَالْعِشْرِينَ سَيَكُونُ قَرْنَ الْإِسْلَامِ وَقَرْنَ الثَّقَافَةِ الْإِسْلَامِيَّةِ) صفحہ 23۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عصر جدید امکانی طور پر عصرِ اسلام ہے۔ تاریخ کا دھارا جس طرف جارہا ہے وہ بلاشبہ یہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں بیک وقت کئی ایسے انقلابات ہوئے ہیں جو آخری حد تک اسلامی دعوت کے موافق ہیں۔ ان جدید امکانات کو استعمال کر کے اسلام کی عمومی اشاعت کا وہ مقصد کامیابی کے ساتھ حاصل کیا جا سکتا ہے جس کی بابت حدیث میں ان الفاظ میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ روئے زمین کے ہر گھر میں اسلام کا کلمہ (كَلِمَةُ الْإِسْلَامِ) داخل ہو جائے گا (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader