Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

کر فیصلۂ خداوندی کے اشاروں کو پڑھنے والا بن گیا ہو۔ جو اس راز کو جانے کہ کبھی بولنا ضروری ہوتا ہے اور کبھی نہ بولنا۔ کبھی کرنا ضروری ہوتا ہے اور کبھی نہ کرنا۔ جو ظاہری ہنگاموں کے درمیان چھپے ہوئے عوامل کو جانے، جو پسپائی کے واقعہ کو بھی اقدام کے روپ میں دیکھ سکے۔ دعوہ ایمپائر اورنگ زیب عالمگیر (1618-1707) نے برصغیر ہند میں اسلام کا پولیٹیکل ایمپائر بنانا چاہا۔ مگر طویل ترین زمانہ تک ہر قسم کی کوشش اور قربانی کے باوجود وہ یہاں مطلوب پولیٹیکل ایمپائر بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے بعد سے آج تک تقریباً تین سو سال سے تمام رہنماؤں کا یہی سب سے زیادہ پسندیدہ خواب رہا ہے۔ کوئی اس مقصد کے لیے جہاد بالسيف تک گیا۔ اور کسی کے حالات نے اس کو جہاد بالقلم اور جہاد باللسان تک محدود رکھا۔ تا ہم یہ تین سو سالہ کوششیں بے حساب جانی اور مالی قربانیوں کے باوجود سراسر بے نتیجہ رہیں۔ اس کا سبب یہی تھا کہ ان تمام رہنماؤں کا ذہن جزئی دائرہ میں کام کرتا رہا۔ وہ جزئیات سے اٹھ کر کلیات کو اپنی گرفت میں نہ لا سکے۔ اس اجتہادی خطا کا اصل راز یہ ہے کہ مغربی قوموں کی طرف سے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جو چیلنج پیش آیا، اس میں عصر کے ساتھ یسر کا پہلو وافر مقدار میں موجود تھا۔ مگر ہمارے تمام رہنما عصر کے پہلو میں اتنا الجھے کہ وہ یسر کے پہلوؤں کو نہ دیکھ سکے۔ مغربی تہذیب کے ظہور کا ایک ابتدائی نتیجہ یہ تھا کہ اس نے ان قوموں کو سیاسی غلبہ عطا کر دیا۔ مگر اس تہذیب نے انسانی معاملات میں جو انقلاب برپا کیا تھا اس نے تاریخ میں پہلی بار یہ عظیم امکان کھول دیا تھا کہ پولیٹیکل ایمپائر سے بھی زیادہ بڑی ایک چیز قائم کی جا سکے، اور وہ وہی چیز ہے جس کو ہم نے دعوہ ایمپائر کہا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page