Urdu book · فکر اسلامی

دعوہ ایمپائر

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

پولیٹیکل ایمپائر میں طاقت کا انحصار تمام تر سیاسی قوت پر ہوتا ہے۔ جب کہ دعوہ ایمپائر میں طاقت کا انحصار تمام تر فکری اور نظریاتی قوت پر ہوتا ہے۔ سیاسی یا فوجی قوت کسی ایک قوم کی اجارہ داری نہیں۔ اس معاملہ میں تلک الایام نداولھا بین الناس کی سنت الہی کارفرما ہوتی ہے اور وہ کسی بھی قوم کے حصہ میں آسکتی ہے۔ مگر فکری اور نظریاتی قوت کے معاملہ میں اہل اسلام کو تنہا اجارہ داری حاصل ہے۔ کیوں کہ اسلام واحد مذہب ہے جو تاریخی طور پر معتبر مذہب کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسرے تمام مذاہب تبدیلیوں کے نتیجہ میں تاریخی اعتبار یت کھو چکے ہیں۔ اس طرح دعوہ ایمپائر بنانے کی صلاحیت حقیقی معنوں میں اسلام کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔ قدیم زمانہ کے حالات میں صرف پولیٹیکل ایمپائر ہی اصل اہمیت رکھتا تھا۔ اس وقت مسلمانوں نے عالمی سطح پر اپنا ایک پولیٹیکل ایمپائر بنایا۔ مگر موجودہ زمانہ میں سیاست اور حکومت کی حیثیت ثانوی ہوگئی۔ اب دوسری غیر سیاسی چیزوں نے اولین اہمیت اختیار کرلی ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مصلحین اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بے فائدہ طور پر سیاست کی چٹان پر اپنا سر ٹکراتے رہے۔ جب کہ عین اسی وقت ان کے لیے دوسرے مواقع کو استعمال کرکے دوبارہ زیادہ طاقتور انداز میں دعوہ ایمپائر بنانے کا امکان پوری طرح کھلا ہوا تھا۔ قدیم زمانہ میں اقتصادیات کا انحصار تمام تر زمین پر تھا اور زمین بادشاہ کی ملکیت ہوتی تھی۔ اس لیے بادشاہ کے سوا کوئی اور شخص اقتصادی قوت کا مالک نہیں بن سکتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں انڈسٹری کی ترقی نے زمین کو ثانوی حیثیت دیدی ہے اور صنعت و تجارت کو اقتصادی معاملہ میں اولین اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے ، انڈسٹری پوری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page