Urdu book · فکر اسلامی

دعوہ ایمپائر

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

طرح ایک آزاد شعبہ ہے۔ کوئی بھی شخص یا کوئی بھی گروہ انڈسٹری کے مواقع کو استعمال کر کے اعلیٰ ترین اقتصادی ذرائع کا مالک بن سکتا ہے۔ قدیم زمانہ میں النَّاسُ عَلٰى دِيْنِ مُلُوْكِهِمْ کا اصول تھا۔ کیوں کہ بادشاہ کے سوا کسی کے پاس یہ طاقت نہ تھی کہ وہ لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کر سکے۔ موجودہ زمانہ میں کمیونی کیشن کے جدید ذرائع نے اس صورتحال کو یکسر بدل دیا ہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ داعیِ ذرائع مواصلات کو استعمال کرکے شاہی محل کے لوگوں کو بھی اپنا مخاطب بنا سکے۔ وہ دنیا بھر کے تمام کچے اور پکے مکانات میں بلا روک ٹوک داخل ہو جائے۔ قدیم زمانہ مذہبی جبر کا زمانہ تھا۔ سرکاری مذہب کے سوا کسی اور مذہب کی آزادانہ تبلیغ کی اجازت نہ تھی۔ موجودہ زمانہ مذہبی آزادی کا زمانہ ہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اہلِ حق اپنے پیغام کو لے کر اٹھیں اور کسی بھی پابندی کے بغیر اس کو ایک ایک شخص تک پہنچا دیں۔ اور مذہبی معاملات پر آزادانہ بحث ومباحثہ کے ذریعہ دینِ حق کی صداقت کو ثابت اور مبرہن کر سکیں۔ اس طرح کی بہت سی دور رس تبدیلیاں موجود زمانہ میں ہوئی ہیں۔ انھوں نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ اہلِ اسلام ہر ملک میں اعلیٰ درجے کے مدرسے اور اسلامی مرکز بنائیں ۔ وہ مسجدوں اور دینی اداروں کا نظام ہر جگہ قائم کریں ۔ وہ دعوتی سرگرمیوں کو مؤثر ترین انداز میں جاری کر سکیں۔ وہ ہر قسم کے معاون اداروں کے ذریعہ اسلام کو ایک طاقت و تحریک کی حیثیت دے دیں۔ وہ جدید ترین وسائل کو استعمال کرکے ہر ملک میں اپنا دعوہ ایمپائر کھڑا کر سکیں ۔ اسلام کا اصل مقصد دل کی دنیا کو بدلنا ہے ، نہ کہ ظاہری ڈھانچہ کو بدلنا۔ اسلام کا اصل مقصد اظہار ہے، اسلام کا اصل مقصد اقتدار نہیں۔ اسلام کا نشانہ نظریاتی غلبہ ہے، نہ کہ محض

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page