دعوہ ایمپائر
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
سیاسی غلبہ۔ اسلام کا اصل مقصود جنت ہے، اسلام کا اصل مقصود حکومت نہیں۔ قدیم زمانہ میں سیاست کا ادارہ ہی واحد طاقت ور ادارہ تھا۔ اس لیے اسلام کے غیر سیاسی مقصود کو حاصل کرنے کے لیے بھی سیاست سے تعرض پیش آیا۔ مگر موجودہ زمانہ میں یہ صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔ اب اگر کسی مقام پر اہل اسلام کو حکومتی ادارہ میں غلبہ حاصل نہیں ہے تو اس پر انھیں کچھ بھی ملال کرنے کی ضرورت نہیں۔ جدید ذرائع کو استعمال کرکے وہ حکومت کے باہر بھی وہ سب کچھ مزید اضافہ کے ساتھ حاصل کر سکتے ہیں جن کی توقع پہلے صرف حکومتی ادارہ سے کی جاتی تھی۔ موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین کا یہ حال ہوا کہ وہ قدیم امکانات کو جانتے تھے، مگر جدید امکانات سے عملاً وہ بے خبر رہے۔ اسی لیے اس راز کو سمجھنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوا کہ حکومت سے باہر وہ حکومت سے زیادہ طاقت ور ادارہ بنا سکتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ افکار کی اشاعت عالمی سطح پر بے روک ٹوک اور انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ جاری کی جاسکے۔ ایسی اسلامی یونیورسٹی بنائی جائے جو تمام دنیا کے لیے علوم الہی کا سر چشمہ بن جائے۔ ایسا ریڈیو اسٹیشن اور ٹی وی اسٹیشن قائم کیا جائے جہاں سے بیک وقت تمام اہل عالم کو خطاب کیا جا سکتا ہو۔ ایسا اقتصادی ہاؤس بنایا جائے کہ حکومتوں کے تعاون سے بے پرواہ ہو کر تمام اسلامی سرگرمیوں کو خود اپنی بنیاد پر جاری کیا جاسکے۔ اسی کے ساتھ موجودہ زمانہ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ اسلامی اخلاقیات کا عمومی مظاہرہ کیا جاسکے۔ جدید طرز کے اسپتال، جدید طرز کے رفاہی ادارے، معذور افراد کے جدید معیار کی سہولتیں، اور اس قسم کے دوسرے بہت سے کام حکومت کے اشتراک و تعاون کے بغیر اعلیٰ ترین سطح پر کیے جاسکتے تھے، جیسا کہ بعض قومیں انجام دے رہی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader