Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی قسم کے مختلف کاموں کے مجموعہ کو ہم نے دعوہ ایمپائر کہا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مصلحین اگر کلی اجتہاد کی صلاحیت کے حامل ہوتے تو وہ ان امکانات و مواقع کو دیکھتے۔ اس کے بعد وہ ایسا نہ کرتے کہ سیاست کی قربان گاہ پر قوم کو لے جا کر اس کی ہلاکت کا سامان کریں۔ بلکہ وہ لوگوں کو یہ سبق دیتے کہ جدید امکانات کو استعمال کرکے دعوہ ایمپائر بناؤ اور پھر اسلام کو سارے عالم کی فکری قیادت کے مقام پر پہنچادو۔ یہ دعوہ ایمپائر اصلاً غیر سیاسی دائرہ میں بنے گا۔ مگر جب وہ بن جائے گا تو وہ بالواسطہ طور پر سیاسی ادارہ کو بھی متاثر کرے گا، حتیٰ کہ عین ممکن ہے کہ وہ وقت آئے جب کہ خود سیاسی ادارہ بھی اس دعوہ ایمپائر کا ایک ماتحت حصہ بن جائے۔ خلاصہ کلام جزئی اجتہاد سے مراد یہ ہے کہ بروقت جو صورتحال (اَلْوَضْعُ الرَّاهِنُ) سامنے ہے اس کے سلسلہ میں حکم شرعی کو معلوم کرکے اس پر عمل کیا جائے۔ کلی اجتہاد سے مراد یہ ہے کہ بروقت قائم شدہ صورتحال کے بارے میں وہ موقف اختیار کیا جائے جس میں شریعت کی اصل روح کے ساتھ عمومی مصلحت کی رعایت ہو، اور جو بالاخر موجودہ صورتحال کے وقتی حل سے آگے بڑھ کر اسلام کے وسیع تر مقصد تک پہنچانے والا ثابت ہو۔ گو یا مصلحت وقتی کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے عمل کا رخ متعین کرنے کا نام جزئی اجتہاد ہے اور مصلحت عمومی کو ملحوظ رکھ کر عمل کا رخ متعین کرنے کا نام کلی اجتہاد۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page