فکر اسلامی کی تشکیل جدید
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید ( یہ مقالہ ایک لیکچر پر مبنی ہے جو ” خطبہ بیاد پروفیسر مشیر الحق‘‘ کے تحت 10 اپریل 1995 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی، کے کانفرنس ہال میں دیا گیا۔ اس کا اہتمام ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز نے کیا تھا ۔) پروفیسر مشیر الحق یکم اگست 1933 کو یو پی کے ضلع غازی پور میں پیدا ہوئے۔ 10 اپریل 1990 کو انھیں سرینگر میں شہید کر دیا گیا جب کہ ان کی عمر بمشکل 57 سال تھی۔ ماہنامہ کتاب نما (دہلی) کے شمارہ مئی 1990 میں 23 صفحات پر مرحوم کے بارے میں تعزیتی خطوط اور تعزیتی قرار دادیں شائع کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز کی تعزیتی قرار داد ہے۔ وہ ہماری آج کی بحث سے بہت زیادہ متعلق ہے۔ اس کا ایک حصہ ہم یہاں نقل کرتے ہیں: ” پروفیسر مشیر الحق نے قدیم وجدید کی آمیزش سے مطالعاتِ اسلامی میں ایک نئی راہ دکھائی۔ سماجی علوم میں رائج اصولِ تحقیق کو مطالعاتِ اسلامی میں فروغ دے کر ایک نئی سمت کا تعین کیا۔ ان کی تحقیقات نے اسلامی معاشرہ میں جدید فکر کے لیے باب کھولا ۔‘‘ (صفحہ 47) مرحوم کے بیشتر مضامین اور کتا بیں اسی خاص موضوع سے متعلق ہوتے تھے۔ میں نے موصوف کا ایک مقالہ پڑھا جس کا عنوان تھا ”شریعت کی نئی تعبیر‘‘ موضوع کی وضاحت کرتے ہوئے مقالہ کے آخر میں انھوں نے کہا تھا کہ: یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ میں شریعت اسلامی میں کسی تبدیلی کا مطالبہ کر رہا ہوں ۔ ایسا قطعاً نہیں ہے۔ اس کے برعکس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader