فکر اسلامی
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
میں صرف ذہن کی تبدیلی کی بات کر رہا ہوں (فکر اسلامی کی تشکیل جدید، صفحہ 270)۔ ڈاکٹر سید جمال الدین صاحب کی روایت ہے کہ پروفیسر مشیر الحق کے مک گل یونیورسٹی کے استاد پروفیسر ایڈمس (Charles J. Adams) نے ان کے بارے میں کہا کہ مشیر الحق ہر دور میں اسلام کی مسلسل معنویت میں کامل یقین رکھتے تھے: Mushirul Haq was very much convinced that Islam had a continuing relevance. میں سمجھتا ہوں کہ پروفیسر مشیر الحق مرحوم کے بارے میں یہ صحیح ترین تبصرہ ہے۔ اور موجودہ مقالہ میں اسی کو بحث کا موضوع بنایا گیا ہے۔ یعنی یہ سوال کہ کیا بدلتے ہوئے زمانہ میں اسلام کی اہمیت کو از سر نو ثابت شدہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ پروفیسر مشیر الحق کا سب سے زیادہ پسندیدہ موضوع تھا۔ اس لیے عین مناسب ہے کہ آج کی صحبت میں اس کو موضوع بحث بنایا جائے۔ کیوں کہ یہ مجلس انھیں کی یاد میں منعقد کی گئی ہے۔ تشکیل جدید کیا ہے " فکر اسلامی کی تشکیل جدید" سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں جو نئے فکری اور عملی مسائل پیدا ہوئے ہیں ، ان کا ایسا جواب فراہم کیا جائے جس میں ایک طرف اسلام کے روح اور مزاج کی مکمل رعایت شامل ہو، دوسری طرف وہ جدید تقاضوں کو پوری طرح سمیٹے ہوئے ہو۔ فکر اسلامی کی تشکیل جدید کے موضوع پر موجودہ زمانہ میں بہت کچھ لکھا اور بولا گیا ہے۔ غالباً اس موضوع پر سب سے پہلے لکھنے والے اور اس کی طرف توجہ دلانے والے سید جمال الدین افغانی (1897-1838ء) تھے۔ اسی طرح شیخ محمد عبدہ (مصر) سر سید احمد خان ، سید امیر علی (انڈیا) اور نامق کمال (ترکی) وغیرہ کا نام اس سلسلہ میں لیا جا سکتا ہے، ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader