فکر اسلامی
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
ہی تھا۔ اس سیمنار میں منتخب علما اور اہلِ فکر جمع ہوئے اور انھوں نے موضوع کے مختلف پہلوؤں پر اپنے مقالات پیش کیے۔ ان مقالات کا مجموعہ ”فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید“ کے نام سے مکتبہ جامعہ لمیٹڈ (نئی دہلی) کے تحت شائع ہو چکا ہے جو 480 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس قسم کی کوششیں بہت بڑے پیمانہ پر سارے عالمِ اسلام میں جاری ہیں۔ مگر کوششوں کی کثرت کے باوجود وہ ابھی تک نتیجہ خیز نہیں ہوئیں ۔ ان کوششوں کا خاص مقصد یہ تھا کہ دورِ جدید کی نسبت سے مسلمانوں کو فکری اور عملی رہنمائی دی جائے۔ مگر یہ اہم ترین مقصد ابھی تک حاصل نہ ہو سکا۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید ایک مجتہدانہ عمل ہے۔ اس کے لیے ایک اعلیٰ اجتہادی کوشش درکار ہے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، چوتھی صدی ہجری کے بعد سے مسلم دنیا میں ذہنی جمود کی ایسی فضا چھائی ہوئی ہے کہ کوئی بھی شخص اجتہاد کی ہمت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اجتہاد کی اہمیت فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کا مسئلہ حقیقتاً مسائلِ حاضرہ کے مقابلہ میں اجتہادِ جدید کا مسئلہ ہے۔ چوں کہ موجودہ زمانہ کے علما اجتہاد کے لیے تیار نہیں، اس لیے وہ ابھی تک فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید کا کام بھی نہ کر سکے۔ حالاں کہ اسلام میں اجتہاد کو جاری رکھنے پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ اور اس کے سلسلہ میں مسلمانوں کی غیر معمولی ہمت افزائی کی گئی ہے۔ صحیح البخاری (کِتَابُ الاِعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ) اور صحیح مسلم (کِتَابُ الأَقْضِيَةِ) میں حضرت عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حاکم فیصلہ کرے اور وہ اجتہاد کرے، اور اس کا فیصلہ درست ہو تو اس کے لیے دو اجر ہے۔ اور جب وہ فیصلہ کرے اور وہ اجتہاد کرے پھر وہ غلطی کر جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے: إِذَا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader