فکر اسلامی
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
حُكْمِ الْحَاكِمِ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7352؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1716)۔ ابن حجر العسقلانی نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پہلے شخص کے لیے دو اجر ہے، کوشش کا اور درستگی کا۔ اور دوسرے شخص کے لیے صرف کوشش کا اجر ہے: فَالْأَوَّلُ لَهُ أَجْرَانِ: أَجْرُ الِاجْتِهَادِ وَأَجْرُ الْإِصَابَةِ. وَالْآخَرُ لَهُ أَجْرُ الِاجْتِهَادِ فَقَط (فتح الباری، جلد 13، صفحہ 331)۔ اس سے معلوم ہوا کہ اجتہاد اسلام میں اتنا زیادہ مطلوب ہے کہ اس میں غلطی کرنے پر بھی ثواب رکھ دیا گیا ہے، بشرطیکہ اجتہاد کرنے والے کی نیت درست ہو۔ اس حدیث کے مطابق، اجتہاد کا عمل کسی حال میں روکا نہیں جائے گا، خواہ اس کے لیے رسک لینا پڑے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ چوتھی صدی، ہجری کے بعد لوگوں نے اس اندیشہ کی بنا پر اجتہاد کو ترک کر دیا کہ کہیں ہم سے غلطی نہ ہو جائے ، جب کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا تھا کہ غلطی کا اندیشہ ہو تب بھی تم اجتہاد کا عمل جاری رکھنا۔ اس کا سبب اجتہاد کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا نظام اجتہاد کے بغیر چل نہیں سکتا۔ جہاں اجتہاد نہیں ہوگا وہاں جمود ہوگا۔ اور ذہنی جمود در حقیقت ذہنی موت ہے جس کے بعد حقیقی ترقی کا کوئی امکان نہیں۔ اجتہادِ مطلق، اجتہادِ مقید اجتہاد کیا ہے۔ لغت میں اجتہاد کے معنی ہیں انتہائی کوشش کرنا۔ اصول فقہ کی اصطلاح میں اس سے مراد وہ ممکنہ سعی ہے جو کسی غیر منصوص معاملہ میں شریعت کا حکم جاننے کے لیے صرف کی جائے (اِسْتِفْرَاغُ الْوُسْعِ فِي مَعْرِفَةِ الْحُكْمِ الشَّرْعِيِّ فِي أَمْرٍ لَمْ يَرِدْ فِيهِ نَصٌّ فِي الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader