اجتہاد مطلق ، اجتہاد مقید
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ قدیم ائمہ مجتہدین نے جو علمی میراث چھوڑی ہے وہ ہمیشہ کے لیے کافی ہے، اب کسی کو اجتہاد کرنے کی ضرورت نہیں۔ مگر محقق علماء نے ہمیشہ اس کے برعکس موقف اختیار کیا ہے۔ حتیٰ کہ خود وہ ائمہ بھی جن کے بعد اجتہاد کا دروازہ بند سمجھا جاتا ہے۔ اس بات پر شدت سے زور دیتے رہے ہیں کہ علما کو کسی ایک کا مقلّد بن کر نہیں رہنا چاہیے۔ بلکہ نئے حالات اور نئے تقاضوں کا حل براہِ راست قرآن وسنت کی روشنی میں تلاش کرنا چاہیے۔ اسی کا نام اجتہاد ہے۔ علامہ شاطبی نے اپنی کتاب الموافقات میں اجتہاد کی بحث کے تحت لکھا ہے کہ اجتہاد کی ضرورت قیامت تک باقی رہے گی۔ کیوں کہ انسان قیامت تک اس بات کا مکلف ہے کہ شریعت پر چلے (الموافقات، جلد 5، صفحہ 11)۔ لیکن شریعت ہمیں کلی اصول فراہم کرتی ہے۔ وہ جزئی تفصیلات سے بہت کم بحث کرتی ہے۔ جب کہ زندگی کے حالات اور تقاضے وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل بدلتے رہتے ہیں۔ جب اصولِ شریعت محدود ہیں اور بدلتے ہوۓ حالات اور تقاضوں کی کوئی حد نہیں، تو شریعت پر عمل کیسے ممکن ہوگا۔ ظاہر ہے یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب اجتہاد کا دروازہ کھلا رہے تا کہ شرعی اصولوں کی مزید توسیع یا از سر نو تشریح کر کے مختلف حالات اور تقاضوں کی نسبت سے ہم اپنا موقف متعین کر سکیں۔ خالص فنّی اعتبار سے اجتہاد کی بہت سی قسمیں کی جاتی ہیں۔ تاہم بڑی تقسیم میں اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اجتہاد مطلق، دوسرے اجتہاد مقید (الفروق للقرافی، جلد 2، صفحہ 117)۔ اجتہاد مطلق اور اجتہاد مقید کی جو تعریفیں اصولِ فقہ کی کتابوں میں درج ہیں، اگر ہم ان کا خلاصہ آج کے انسان کی قابلِ فہم زبان میں بیان کرنا چاہیں تو وہ یہ ہوگا کہ اجتہاد مطلق کا تعلق ایسے مسئلہ سے ہے جو اپنی نوعیت میں بالکل نیا ہو۔ جس کے لیے سابق میں کوئی نظیر موجود نہ ہو جس پر قیاس کرتے ہوۓ شریعت کا حکم متعین کیا جا سکے۔ ایسی حالت میں مجتہد کا کام یہ ہے کہ وہ روحِ اسلام کو رہنما بنا کر یہ فیصلہ کرے کہ پیش نظر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader