اجتہاد مطلق ، اجتہاد مقید
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
مسئلہ میں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے برعکس، اجتہاد مقید کا تعلق ایسے مسئلہ سے ہے جو بالکل نیا نہ ہو، بلکہ اس کی کوئی نظیر سابق میں پائی جاتی ہو۔ ایسی حالت میں مجتہد کا کام یہ ہے کہ وہ سابقہ عملی نظیر کو سامنے رکھتے ہوئے پیش آمدہ صورت حال پر شریعت کے حکم کا انطباق کرے۔ گویا اجتہاد مطلق میں اصل رہنما روح اسلام ہوتی ہے اور اجتہاد مقید میں اصل رہنما کوئی عملی نظیر۔ اجتہاد مطلق کی ایک مثال حکومت وقت کے خلاف خروج کی حرمت کا مسئلہ ہے جس کے بارے میں واقعہ کربلا سے پہلے کوئی مماثل واقعہ تاریخ اسلام میں نہیں ملتا۔ چنانچہ علما نے قائم شدہ حکومت، خواہ وہ ظالم ہو، کے خلاف خروج کی حرمت کا متفقہ فتویٰ دیا اسے اجتہاد مطلق کی تاریخی مثال قرار دیا جا سکتا ہے۔ جس میں محض روح اسلام کو رہنما بنا کر ایک عملی موقف متعین کیا گیا۔ علامہ ابن کثیر نے حسین اور یزید کے معاملہ پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یزید اگرچہ ایک فاسق امام تھا۔ لیکن امام اگر فاسق ہو تو محض فسق کی بنا پر اس کو معزول نہیں کیا جائے گا، بلکہ علما کے صحیح قول کے مطابق، اس کے خلاف خروج (بغاوت) کرنا جائز نہیں ہوگا۔ کیوں کہ اس کے نتیجہ میں فساد اور بدامنی اور خوں ریزی اور لوٹ مار اور عورتوں کی آبرو ریزی جیسے سنگین واقعات پیش آتے ہیں جن میں سے ہر ایک کی برائی اور سنگینی امام کے فسق و فجور سے کئی گنا زیادہ ہے: ”وَالإِمَامُ إِذَا فَسَقَ لَا يُعْزَلُ بِمُجَرَّدِ ذَلِكَ، عَلَى أَصَحِّ قَوْلِ الْعُلَمَاءِ، بَلْ وَلَا يَجُوزُ الْخُرُوجُ عَلَيْهِ؛ لِمَا فِي ذَلِكَ مِنْ إِثَارَةِ الْفِتْنَةِ، وَوُقُوعِ الْهَرْجِ، وَسَفْكِ الدِّمَاءِ الْحَرَامِ، وَنَهْبِ الْأَمْوَالِ، وَفِعْلِ الْفَوَاحِشِ مَعَ النِّسَاءِ وَغَيْرِهِنَّ، وَغَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا كُلُّ وَاحِدَةٍ فِيهَا مِنَ الْفَسَادِ أَضْعَافُ فِسْقِهِ، كَمَا جَرَى مِمَّا تَقَدَّمَ إِلَى يَوْمِنَا هَذَا“، (البداية والنهاية لابن كثير، جلد 8، صفحہ 224-223)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader