Urdu book · فکر اسلامی

اجتہاد مطلق ، اجتہاد مقید

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں ایک طرف امام جائر کے سامنے حق بات کہنے کو افضل جہاد کہا گیا ہے اور ایسے مجاہد کو اگر امام قتل کر دے تو وہ افضل الشہداء قرار پائے گا۔ ایسی حالت میں فاسق امام کے خلاف خروج کی حرمت کا فتویٰ بظاہر مذکورہ حدیث سے متعارض معلوم ہوتا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ دراصل یہاں علما نے اسلام کی دائمی اسپرٹ کو ملحوظ رکھ کر اجتہاد کیا۔ وہ یہ کہ اجتماعی معاملات میں اصل فیصلہ کن چیز یہ ہے کہ کسی اقدام کے نتیجہ میں منفعت اور مضرت کا تناسب کیا ہوگا۔ اگر ایک عمل کا نقصان اس کے فائدہ سے زیادہ ہو تو فی نفسہ جائز ہوتے ہوئے بھی وہ عمل ناجائز ہو جائے گا۔ یہ اصول انفرادی معاملات میں بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ مثلاً شراب اور جوا کی حرمت کا ایک سبب یہ بیان کیا گیا کہ ان کا نقصان ان کے فائدہ سے بڑا ہے (البقرۃ، 2:219)۔ تاہم اجتماعی امور میں یہ اصول زیادہ شدت کے ساتھ ملحوظ رکھا جائے گا۔ اسی بات کو اصول فقہ کی زبان میں کہا گیا ہے: تَرْكُ الْمَصْلَحَةِ لِخَوْفِ مَفْسَدَةٍ أَعْظَمَ مِنْهَا (شرح النووی علی صحیح مسلم، جلد 14، صفحہ 178)۔ ایک درست کام بھی اس وقت نہ کرنا جب کہ اس کا نتیجہ برعکس صورت میں نکلنے والا ہو۔ اجتہاد مقید کی وضاحت کے لیے استعانت بالکفار یا غیر مسلموں کے ساتھ موالات (تعاون) کا مسئلہ بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ تحریک آزادی کو موثر بنانے کے لیے اس صدی کے اوائل میں جب ہمارے علما نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ تاکہ ہند و اور مسلمان دونوں فرقے متحدہ ہو کر انگریزوں کے خلاف لڑ سکیں، اس وقت ایک طبقہ نے علما کے اس موقف پر سخت تنقید کی۔ حتیٰ کہ اس بنیاد پر کفر کے فتوے بھی صادر کیے گئے۔ ان صاحبان کی نظر اس آیت پر تھی جس میں اہل اسلام کو غیر مسلموں کے ساتھ دوستی اور تعاون سے منع کیا گیا ہے۔ علما بلا شبہ اس قرآنی حکم سے بے خبر نہیں تھے۔ لیکن ان کے سامنے رسول اللہ کے زمانے کی ایک ایسی عملی نظیر موجود تھی جس کی روشنی میں اجتہاد کرتے ہوئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page