فکر اسلامی
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
انھوں نے پیش قدمی کر کے غیر مسلموں کے ساتھ تعاون کیا۔ جس وقت مکہ والوں نے رسول اللہ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تو آپ حکم خداوندی سے ہجرت کی تیاری میں لگ گئے۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ سیرت کی تمام مستند کتابوں میں یہ ملتا ہے کہ آپ نے صحرائی راستوں کے ایک ماہر سے ربط قائم کیا تا کہ اس کی رہنمائی میں آپ ایسے خفیہ اور مختصر راستے سے مدینہ کا سفر کریں کہ مکہ والے آپ تک نہ پہنچ سکیں۔ صحرائی راستوں کا یہ ماہر مشرک تھا جس کا نام عبد اللہ بن اُریقط بتایا جاتا ہے (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 1، صفحہ 196)۔ یہ استعانت بالکافر کی ایک قطعی مثال ہے۔ اس عملی نظیر پر قیاس کرتے ہوئے ہمارے علما نے غیر مسلموں کے ساتھ تعاون کا جو فیصلہ کیا وہ بلاشبہ ایک درست فیصلہ تھا۔ جہاں تک قرآن کی مذکورہ آیت کا معاملہ ہے تو اس کا تعلق دراصل ان غیر مسلموں سے ہے جو نہ صرف اسلام کے دشمن ہوں بلکہ بالفعل وہ اس کے خلاف بر سر جنگ ہو گئے ہوں۔ ایسے لوگوں سے دوستی اور تعاون غداری کے ہم معنیٰ ہے جس کی حرمت میں کوئی اختلاف نہیں۔ اجتہاد کی شرطیں اجتہاد نام ہے— شرعی مآخذ کی روشنی میں غیر منصوص مسائل کا استنباط کرنے کا۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک بے حد نازک کام ہے۔ مگر وہ جتنا نازک ہے اتنا ہی زیادہ وہ ضروری ہے۔ اسی لیے علماء اصول نے لکھا ہے کہ کسی وقت اگر ایک ہی مجتہدانہ صلاحیت رکھنے والا آدمی پایا جائے تو اس پر اجتہاد کرنا فرض عین ہو جائے گا۔ اور اگر اجتہاد کی مطلوبہ صلاحیت کے حامل کئی افراد ہوں تو اس وقت اجتہاد فرض کفایہ ہوگا۔ یعنی اگر ان میں سے ایک شخص نے اجتہاد کر کے شرعی حکم بتا دیا تو بقیہ کے اوپر سے یہ فرض ساقط ہو جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ شرائط اجتہاد کیا ہیں۔ کوئی شخص کب اس قابل بنتا ہے کہ وہ بوقت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader