Urdu book · فکر اسلامی

اجتہاد کی شرطیں

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

ضرورت اجتہاد کرے ۔ اس سلسلہ میں علماء نے متعدد شرطیں مقرر کی ہیں ۔ مثلاً عربی زبان سے بخوبی طور پر واقف ہونا ۔ قرآن وحدیث کا گہر اعلم ہونا۔ ماضی کے علماء اور مجتہدین کی آراء سے واقف ہونا۔ اصول فقہ اور اصول استنباط سے پوری طرح آگاہ ہونا۔ مقاصد شریعت سے کامل واقفیت رکھنا۔ ان تمام علمی قابلیتوں کے ساتھ لازمی طور پر اس کا متقی ہونا، وغیرہ یہ شرطیں سب کی سب نہایت درست ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ کیسے معلوم ہو کہ فلاں شخص ان اوصاف اجتہاد کا مالک بن چکا ہے، اس لیے اس کو حق ہے کہ وہ اجتہاد کرے۔ اس کا فیصلہ کوئی بھی خارجی شخص نہیں کر سکتا۔ خاص طور پر تقویٰ ایک انتہائی داخلی کیفیت ہے۔ اس کا علم خدا کے سوا کسی کو بھی نہیں ہوسکتا۔ پھر کون شخص طے کرے گا کہ فلاں آدمی اس کا اہل ہو چکا ہے کہ وہ اجتہاد کرے۔ اس معاملہ میں شرائط اجتہاد تو بیان کی جاسکتی ہیں، مگر ممکن نہیں ہے کہ کسی شخص خاص کے بارے میں کہا جائے کہ تمہارے اندر تمام شرائط جمع ہو چکی ہیں، اس لیے اب تم کو حق ہے کہ تم اجتہاد کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد، اس قسم کے دوسرے کاموں کی طرح، ذاتی داعیہ کے تحت کیا جانے والا ایک عمل ہے، وہ کوئی تقرری کا معاملہ نہیں۔ دورِ اول کے ائمہ فقہ جن کو مجتہدِ کامل کا درجہ دیا جاتا ہے انھوں نے ذاتی داعیہ ہی کے تحت اجتہاد کا عمل کیا تھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ دوسروں کی عطا کردہ سند کی بنیاد پر کوئی شخص اجتہاد کی مسند پر بیٹھا ہو۔ اس میں بلا شبہ یہ اندیشہ ہے کہ کچھ لوگ نااہلی کے باوجود اجتہاد کریں گے۔ مگر ایسے لوگوں کا چیک کسی بھی قاعدہ اور ضابطہ کے ذریعہ ممکن نہیں۔ ایسے نااہل مجتہدین ہر دور میں پیدا ہوتے رہے ہیں ۔ اور آئندہ بھی وہ پیدا ہوتے رہیں گے۔ ان کے خلاف چیک خدا کا یہ قانون ہے کہ اس دنیا میں صرف حق کو فروغ حاصل ہوتا ہے، اور باطل اپنی موت آپ مر کر ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ غیر ضروری طور پر مصنوعی پابندیاں وضع کرنے کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page