Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

بجائے خدا کی ابدی سنت پر اعتماد کریں۔ یہی ممکن ہے اور یہی مطلوب بھی۔ شخصیت پرستی: اصل سبب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اسلام میں اجتہاد کی اتنی زیادہ حوصلہ افزائی کی گئی تھی کہ غلطی کا اندیشہ ہو تب بھی اپنی نیت بخیر رکھتے ہوئے اجتہاد کرو۔ دوسری طرف عقل کہتی ہے کہ حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اجتہاد کا عمل لازمی طور پر جاری رہنا چاہیے۔ ان دو طرفہ تقاضوں کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ اجتہاد کا عمل قولاً یا عملاً بند کر دیا گیا۔ اس پر غور کرنے کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ اس کی وجہ وہ نہیں ہے جو عام طور پر بیان کی جاتی ہے، یعنی رجال اجتہاد کا معدوم ہو جانا۔ اس کی اصل وجہ شخصیت پرستی ہے۔ یہ دراصل شخصیت پرستی کا ظاہرہ (phenomenon) ہے۔ اس کے پیچھے کوئی بھی حقیقی وجہ، عملی یا نظری موجود نہیں۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اجتہاد مقید کو اس لیے جائز رکھا گیا کہ اس میں اکابر پر زد نہیں پڑتی۔ اور اجتہاد مطلق کو اس لیے ممنوع قرار دے دیا گیا کہ اس میں اکابر کی شخصیت زد میں آجاتی ہے۔ اجتہاد کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے تنقید کا ماحول انتہائی طور پر ضروری ہے۔ اسلام کی ابتدائی چار صدیوں میں تنقید اور اختلاف کی کھلی اجازت تھی۔ امام محمد امام ابو حنیفہ کے شاگرد تھے۔ مگر انھوں نے اپنے استاد سے ایک سو سے زیادہ مسائل میں اختلاف کیا۔ مگر بعد کی صدیوں میں بڑھی ہوئی اکابر پرستی نے تنقید و اختلاف کو ایک امر ممنوع (taboo) بنا دیا۔ یہی وہ فکری صورتِ حال ہے جس نے اجتہاد کے عمل کا خاتمہ کر دیا۔ اور اس کی توجیہ کے لیے لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اب چونکہ پہلے جیسے بڑے علما پیدا نہیں ہو سکتے اس لیے اب اجتہاد کا دروازہ بھی عملاً بند رہے گا۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ بعد کے دور میں اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ بلکہ تنقید

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page