Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

اختلاف کا دروازہ بند ہو گیا۔ اب اصول یہ قرار پایا کہ جس اجتہاد کی زد کسی شخصیت پر نہ پڑے وہ اجتہاد جائز ہے، اور جس اجتہاد کی زدکسی شخصیت پر پڑے وہ اجتہاد نا جائز۔ اجتہاد کی ضرورت ہمیشہ اس وقت پیش آتی ہے جب کہ نئی صورت حال سامنے آنے کی بنا پر پچھلے علما کی رائیں یا فتاویٰ غیر متعلق بن گئے ہوں، اور ضرورت پیش آگئی ہو کہ دین کے اصل ماخذ (قرآن و سنت) پر از سرِ نو غور کر کے نئے مسئلہ کے بارے میں شرعی حکم کا تعین کیا جائے ۔ مثال کے طور پر فتاویٰ قاضی خان (وفات 1196ء) میں لکھا ہوا ہے کہ ایک شخص اگر قسم کھا کر یہ کہہ دے کہ میں ہوا میں اڑوں گا اور اڑ نہ سکے تو اس پر قسم کا کفارہ لازم نہیں آئے گا، کیوں کہ یہ ایک لغو قسم ہے۔ اب ہوائی جہاز کے زمانہ میں ہوائی پرواز ممکن ہو گئی ہے۔ اس لیے اب ایسی قسم لغو قسم نہیں رہی۔ اس بنا پر اگر کوئی شخص اجتہاد کر کے اس معاملہ میں نیا فتویٰ دے تو وہ دورِ سابق کے حنفی فقیہ قاضی خاں پر تنقید کے ہم معنی ہوگا۔ سابق فقیہ کی رائے کو رد کیے بغیر اس مسئلہ میں نیا فتویٰ نہیں دیا جا سکتا۔ یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر بعد کے دور میں لوگ معاملات میں مجتہدانہ رائے دینے سے گھبرانے لگے۔ ایسی ہر رائے دورِ سابق کے کسی عالم کی رائے سے ٹکراتی تھی، اور چونکہ دورِ سابق کے علما کو تنقید سے بالا تر سمجھ لیا گیا تھا اس لیے قولاً یا عملاً اجتہاد کا دروازہ بند کر دیا گیا۔ تا کہ نہ اجتہاد کرنا ہو اور نہ ماضی کے علما پر تنقید کی نوبت آئے۔ دار الحرب یا دارا لاعداد ہندوستان میں جب انگریزوں کا نفوذ بڑھ گیا تو شاہ عبدالعزیز دہلویؒ نے 1806ء میں یہ فتویٰ دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے (فتاویٰ عزیزی فارسی، دہلی، 1322 ھ، صفحہ 17)۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہندوستان میں اسلام خطرہ میں ہے۔ اس لیے مسلمانوں کا یہ شرعی فرض ہو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page