دارالحرب یا دارا لِا عداد
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
چکا ہے کہ وہ انگریزوں سے لڑ کر انہیں نکالیں اور ملک کو ان کے فساد سے پاک کریں۔ جس وقت یہ انتہائی فتویٰ دیا گیا اس وقت مسلم معاشرہ مکمل طور پر شخصیت پرستی میں مبتلا ہو چکا تھا۔ چنانچہ اس فتوے کے خلاف کوئی کھلی تنقید سامنے نہیں آئی۔ حتیٰ کہ کسی نے یہ کہنے کی بھی جرأت نہیں کی کہ اتنا بڑا اعلان شخصی طور پر نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے علما کا ایک نمائندہ اجتماع ہونا چاہیے۔ یہ فتویٰ جاری رہا۔ یہاں تک کہ 1831ء میں سید احمد بریلوی نے اپنے ساتھیوں کو لے کر عملی جہاد کیا۔ جس میں تمام کے تمام لوگ ہلاک ہو گئے ۔ اس وقت مسلمانوں کے درمیان شخصیت پرستی اپنی آخری حد پر تھی۔ لوگ ”بڑوں“ کے خلاف بولنا تو درکنار سوچنا بھی نہیں جانتے تھے ۔ اس وقت صرف ایک عالم میر محبوب علی دہلوی (1280-1200) نکلے جنھوں نے سید صاحب سے کہا کہ جہاد کا فیصلہ کشف اور خواب کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا فیصلہ صرف شوریٰ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ مگر شخصیت پرستی کی فضا کی بنا پر ان کی بات بے وزن ہو کر رہ گئی۔ (مولانا اسماعیل دہلوی اور تقویۃ الایمان، از مولانا شاہ ابوالحسن زید فاروقی، لاہور، 2001، صفحہ 87-86) اس کے بعد 1857ء میں جب علما دیوبند نے انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد کیا۔ اس وقت بھی ایک عالم شیخ محمد صاحب نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے اس کو ناجائز بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ حریف کے مقابلہ میں ہماری تیاری کچھ نہیں ہے۔ اس لیے عملاً یہ جنگ نہیں بلکہ خودکشی ہوگی۔ مگر اس بار بھی شخصیت پرستی رکاوٹ بنی اور ان کی بات غیر مؤثر ہو کر رہ گئی (نقش حیات از مولانا حسین احمد مدنی، 1945، جلد 2، صفحہ 42)۔ اس کے بعد 1914ء میں عرب عالم محمد رشید رضا دیوبند آئے ۔ یہاں انھوں نے اپنی تقریر میں انگریزوں کے خلاف جہاد سے اختلاف کیا اور کہا کہ اس کے بجائے آپ کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader