Urdu book · فکر اسلامی

دارالحرب یا دارا لِا عداد

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوت کا کام کرنا چاہیے ۔ مگر ان کی یہ رائے ”اکابر“ کی رائے سے ٹکراتی تھی۔ اس لیے کسی نے اس کی طرف بھی توجہ نہیں دی۔ رشید رضا کی تقریر صرف دار العلوم دیوبند کی سالانہ رو داد ( 1330 ھ ، 1912ء) کا ایک غیر اہم حصہ بن کر رہ گئی (بجوالہ الجمعیۃ، و کلی، دہلی ، 6 فروری 1970 )۔ انگریزوں کے خلاف جہاد کا یہ عمل مختلف صورتوں میں بلا انقطاع جاری رہا۔ یہاں تک کہ 1919 میں مہاتما گاندھی نے آ کر اس کو ختم کیا۔ بے فائدہ جنگ کا یہ خاتمہ ”اجتہاد“ہی کے ذریعہ ممکن ہوا۔ اگر چہ یہ ایک سیکولر اجتہادتھا ، نہ کہ کوئی شرعی اجتہاد۔ علماء اپنی غیر مجتہدانہ سوچ کے تحت صرف ایک ہتھیار کو جانتے تھے۔ اور وہ تشدد کا ہتھیار تھا۔ انھیں خبر نہیں تھی کہ ان کی جد و جہد آزادی کے لیے موجودہ زمانہ میں ایک عظیم تر نظریاتی ہتھیار وجود میں آ چکا ہے۔ یہ ہتھیار وہ ہے جس کو حکومت خود اختیاری (self-determination) کہا جاتا ہے۔ یہ تصور اٹھارویں صدی کے فرینچ ریوولیوشن کے دوران ظہور میں آ چکا تھا۔ جس نے قوموں کو یہ حق دیا کہ وہ تشدد کا استعمال کیے بغیر محض دلیل کی پر امن طاقت سے قومی آزادی کی موثر جد و جہد کر سکیں۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد 1919ء میں بننے والی جمعیت اقوام (League of Nations) کے متعلق مسلمانوں کے رہنما علامہ اقبال صرف اتنا ہی جانتے تھے کہ وہ کفن چوروں کی ایک انجمن ہے جو قبروں کی تقسیم کے لیے منظم کی گئی ہے : چیست جمعیت اقوام کفن دزدِ چند بہر تقسیم قبور انجمنِ ساخته اند مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ جمعیت اقوام نے پہلی بار انٹرنیشنل تصدیق سے یہ سیاسی معیار طے کیا کہ ہر قوم کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے درمیان اپنی مرضی کی حکومت قائم کرے ۔ پھر دوسری عالمی جنگ کے بعد 1945ء میں جب اقوام متحدہ (United Nations) بنائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page