دارالحرب یا دارا لِا عداد
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
گئی تو تمام قوموں کے اتفاق رائے سے یہ اصول آخری طور پر ایک مصدقہ سیاسی اصول کے طور پر تسلیم کر لیا گیا(انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا، جلد9، صفحہ 41) مہاتما گاندھی نے عالمی سیاست کا مطالعہ کیا تھا۔ وہ ان زمانی تبدیلیوں سے آگاہ تھے ۔ چنانچہ وہ ساؤتھ افریقہ سے ہندوستان آئے اور اپنے ”سیکولر اجتہاد“ کے ذریعہ ہندوستان کے عوام نیز علما کو بتایا کہ ہمیں اب متشددانہ ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ ”حکومت خود اختیاری“ کے نظریاتی ہتھیار کو ہم زیادہ مؤثر طور پر اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں ۔ چنانچہ علما کی مقلدانہ رائے پر گاندھی کی مجتہدانہ رائے برتر ثابت ہوئی۔ اس کے بعد جو کچھ پیش آیا وہ اب تمام لوگوں کے لیے ایک معلوم تاریخ بن چکا ہے۔ اس پورے معاملے پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے تمام علما سو سال سے بھی زیادہ عرصہ تک جہاد کے نام پر ایک ایسے خونین عمل میں مشغول رہے جس کا کوئی بھی نتیجہ تباہی کے سوا کچھ اور نکلنے والا نہ تھا۔ اس خونین جہاد کے دوران انھوں نے برصغیر ہند کے مسلمانوں کو ناقابل بیان تباہی سے دوچار کیا۔ یہ صرف مہاتما گاندھی تھے جنھوں نے ان کو اس تباہ کن غار سے باہر نکالا۔ اس مہلک تجربہ کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب صرف ایک تھا۔ اور وہ ہے ہمارے علمائے کرام کا اپنے لیے اجتہاد کو شجر ممنوعہ سمجھ لینا۔ تنقید و تحقیق اور بحث و اختلاف کو ممنوع قرار دے کر تقلید کے خول میں اپنے آپ کو بند کر لینا۔ شاہ عبدالعزیز صاحب اپنے مقلدانہ فکر کی بنا پر صرف دو حالتوں کو جانتے تھے— دارالاسلام، دارالحرب۔ ہندوستان جب ان کو دارالاسلام نظر نہ آیا تو انھوں نے سمجھ لیا کہ اب یہ دارالحرب ہے، اور اسی کے مطابق فتوٰی دے دیا۔ اگر وہ مجتہدانہ نگاہ رکھتے تو وہ وسیع تر دائرہ کے اعتبار سے معاملہ کی تحقیق کرتے اور پھر وہ اعلان کرتے کہ قرآن کے الفاظ میں،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader