فکر اسلامی
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان اب دارالاعداد بن چکا ہے (الانفال، 60)۔ یعنی ہمارا روایتی دفاع اب بالکل غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ تم لوگ مغربی زبانوں کو پڑھو۔ سفر کر کے یورپ جاؤ اور معلوم کرو کہ ان قوموں کی ترقی کا راز کیا ہے۔ زمانہ کی تبدیلیوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھو اور پھر اس کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد زندگی ہے اور تقلید صرف موت۔ مگر تقلید کے خول سے نکلنا اور اجتہاد کے فوائد کو حاصل کرنا صرف آزادانہ اظہار رائے کے ماحول میں ممکن ہے۔ اور آزادانہ اظہار رائے کا ہم نے صدیوں سے اپنے درمیان خاتمہ کر رکھا ہے۔ شناخت کا مسئلہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان تشخص کے بحران (crisis of identity) کے مسئلہ سے دو چار ہیں ۔ وہ اپنے تشخص کا شعور کھو بیٹھے ہیں۔ ایک عرب اسکالر کے الفاظ ہیں ، موجودہ زمانہ کے مسلمان ابھی تک اس بنیادی سوال کا جواب دریافت نہ کر سکے کہ ہم کون ہیں (مَن نَحنُ) میں سمجھتا ہوں کہ دورِ جدید کے مجتہد کے لیے یہ سب سے بڑا فکری چیلنج ہے۔ کیوں کہ اسی سوال کے صحیح جواب پر امتِ مسلمہ کی صحیح رخ بندی کا انحصار ہے۔ اگر آپ خالی الذہن ہو کر قرآن وحدیث کو پڑھیں تو آپ نہایت آسانی سے اس سوال کا جواب پا لیں گے۔ قرآن (2:143) سے غیر مشتبہ طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کی حیثیت یہ ہے کہ وہ دنیا کی قوموں کے سامنے خدا کے دین کے گواہ (شُہَدَاء عَلَى النَّاسِ) ہیں۔ ٹھیک یہی بات حدیث میں بھی موجود ہے۔ صحیح البخاری کی روایات میں ہمیں الْمُؤْمِنُونَ شُہَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ (حدیث نمبر 2642) اور أَنْتُمْ شُہَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ (حدیث نمبر 1367) کے الفاظ ملتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader