شناخت کا مسئلہ
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
ان واضح نصوص کے مطابق، مسلمان کا شخص یا اس کی حیثیت دنیا میں یہ ہے کہ خدا کے رسول کے ذریعہ اس کو جو دین رحمت ملا ہے، اس کو ہر دور میں وہ تمام انسانوں تک پہنچاتا رہے، وہ گواہ یا حدیث کے الفاظ میں، نذیر عریان (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7283) کے درجہ میں اس کو پیش کرنے والا بن جائے۔ مسلم شناخت کے بارے میں اتنی واضح بات آج کی مسلم نسلوں کے اوپر مخفی کیوں ہو گئی۔ اس کا سرا ہزار سال پیچھے تک جاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ بنوامیہ اور بنوعباس کے زمانہ میں، اور اس کے بعد سلطنت عثمانیہ کے زمانہ تک مسلمانوں کی قومی حالت اس سے بالکل مختلف تھی جو آج ساری دنیا میں نظر آتی ہے۔ اس وقت مسلمان زمین کے اوپر واحد سپر پاور کی حیثیت حاصل کیے ہوئے تھے۔ شاعر کے الفاظ میں: ہمیں چھائے ہوئے تھے شرق سے تا غرب دنیا میں نہ تھا پلہ کسی ملّت کا دنیا میں گراں ہم سے اس ماحول میں مسلمانوں کے اندر اپنی جو شناخت ابھری وہ غلبہ و اقتدار کی شناخت تھی ۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان کی حیثیت یہ ہے کہ وہ خدا کی زمین پر خدا کا خلیفہ ہے (نَحْنُ خُلَفَاءُ اللهِ فِي الأَرْضِ)۔ قرآن میں خلیفہ کا لفظ پہلے سے موجود تھا۔ اس میں اللہ کے لفظ کا اضافہ کر کے انھوں نے اپنی شناخت کا تعین حاصل کر لیا۔ خلیفہ کے لفظی معنی ہیں جانشین یا بعد کو آنے والا۔ قرآن میں یہ لفظ بنی نوع انسان کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ سورج، چاند، پہاڑ اور سمندر کروڑوں سال سے وہی کے وہی ہیں۔ اس کے برعکس، انسان سو سال میں یا اس سے کم مدت میں مر جاتا ہے اور اس کی جگہ دوسرا انسان آتا ہے۔ گویا انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس میں ایک کے بعد ایک آمد کا نظام قائم ہے۔ اس طرح باری باری لوگ آکر زمین پر بستے ہیں اور اپنی آزمائش کی مدت پوری کر کے چلے جاتے ہیں تا کہ ان کی جگہ دوسرے لوگ آئیں اور خدا کی اسکیم کے مطابق اپنا امتحان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader