Urdu book · فکر اسلامی

شناخت کا مسئلہ

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

دیں۔ یہی بات قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے : پھر ہم نے ان کے بعد تم کو ملک میں خلیفہ بنایا تا کہ ہم دیکھیں کہ تم کیسا عمل کرتے ہو ( 10:14 )۔ اس سادہ امتحانی تصور کو سیاسی تصور کا مفہوم دے کر یہ کہا گیا کہ خلیفہ سے مراد خلیفہ اللہ ہے۔ خدا نے کائنات میں اپنے تکوینی قوانین براہ راست نافذ کر رکھے ہیں۔ اور شرعی قوانین کے نفاذ کے لیے اس نے اہل اسلام کو اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے تا کہ وہ ان قوانین کو بزور تمام انسانوں پر نافذ کریں۔ خلافت کا یہ سیاسی مفہوم تمام تر خود ساختہ تھا ، مگر غلبہ واقتدار کے زمانہ میں لوگوں کو وہ بہت زیادہ مطابق واقعہ نظر آیا۔ چنانچہ وہ بیشتر مسلمانوں میں پھیل گیا۔ اگر چہ محقق علما نے اس کی سخت مخالفت کی۔ مثال کے طور پر علامہ ابن تیمیہ نے کہا کہ جو شخص کسی کو خدا کا خلیفہ قرار دے اس نے خدا کے ساتھ شرک کیا (فَمَنْ جَعَلَ لَهُ خَلِيفَةً فَهُوَ مُشْرِكٌ بِهِ ) ۔ ابن تیمیہ، الفتاویٰ الکبریٰ، 1987، جلد 5، صفحه 123 ۔ انیسویں صدی میں جب مغربی قو میں نئی طاقت سے مسلح ہو کر ابھریں اور انھوں نے ہر جگہ مسلمانوں کو مغلوب کر لیا تو تمام دنیا کے مسلم دانشور نَحْنُ خُلَفَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ (ہم زمین پر خدا کے خلیفہ ہیں) کے اسی تصور میں سرشار تھے ۔ وہ اپنی صرف ایک ہی شناخت جانتے تھے ، اور وہ یہ کہ وہ زمین پر امام اور قائد کی حیثیت سے پیدا کیے گئے ہیں __ یہ صورت حال آج تک پوری طرح باقی ہے۔ ایک شاعر کے الفاظ میں ، اس فکر کا خلاصہ یہ ہے : جس طرح احمد مختار ہیں نبیوں میں امام ان کی امت بھی ہے دنیا میں امام اقوام اس ذہن کی بنا پر مسلم علما اور دانشوروں کو کرنے کا ایک ہی کام نظر آیا۔ یہ کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی حاکمانہ حیثیت کو دوبارہ حاصل کریں۔ پچھلے تقریبا دو سو سال سے کسی نہ کسی صورت میں یہ جدوجہد جاری ہے۔ مگر ان گنت قربانیوں کے باوجود اس میدان میں مسلمان اب تک کچھ بھی حاصل نہ کر سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page