Urdu book · فکر اسلامی

شناخت کا مسئلہ

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلم علما اور دانشور اپنے آپ کو "خُلَفَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ" کی حیثیت سے دوبارہ قائم کرنا چاہتے تھے۔ جب وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوئے تو اب وہ مایوسی اور جھنجلاہٹ کی نفسیات میں مبتلا ہیں۔ وہ ساری دنیا میں اپنے آپ کو بے جگہ محسوس کر رہے ہیں۔ یہی وہ حالت ہے جس کو تشخص کے بحران کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ بحران فرضی ہے، اور وہ ذہنی تخیل اور خارجی صورت حال کے درمیان عدم مطابقت کی پیدا وار ہے۔ اس صورت حال نے مسلمانوں کو ایک عجیب و غریب قسم کی فکری دلدل میں پھنسا دیا ہے۔ وہ چونکہ ایک ہی ملّی نشانہ سے واقف ہیں، اور وہ غلبہ و قیادت کا نشانہ ہے۔ اس لیے اب ان کو وہی آوازیں اپیل کرتی ہیں جس میں ان کی اس مخصوص نفسیات کی غذا موجود ہو۔ جو رہنما بڑے بڑے الفاظ بولیں، جو ہائی پروفائل میں کلام کریں، جو عظمت کے سبز باغ دکھائیں، وہی مسلمانوں کے اندر مقبولیت حاصل کرتے ہیں۔ لو پروفائل میں کلام کرنے والے رہنما موجودہ مسلمانوں کے درمیان قبولیت کا مقام حاصل نہیں کر پاتے۔ جذباتی سیاست مسلمانوں میں خوب مقبول ہوتی ہے اور حقیقت پسندانہ سیاست ان کے درمیان غیر مقبول ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس صورت حال نے مسلمانوں کی قیادت کے معاملہ کو گویا فرضی امیدوں کی تجارت (false-hopes business) بنا دیا ہے۔ تقریباً دو سو سال سے یہ صورت حال جاری ہے کہ ایک کے بعد ایک کوئی شخص اٹھتا ہے۔ وہ جذباتی تقریروں کے ذریعہ مسلمانوں کو ایک بڑے نشانہ کی طرف دوڑا دیتا ہے۔ مگر چونکہ یہ نشانہ غیر حقیقی ہوتا ہے، اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ مسلمانوں کا ہر اقدام ایک نئی تباہی پر ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس فکری بحران یا ذہنی دلدل سے مسلمانوں کو صرف جُرأت مندانہ اجتہاد ہی نکال سکتا ہے۔ آج پہلی ضرورت ہے کہ مسلم علما اور مسلم دانشور اقتدار میں بننے والی شناخت "أَنْتُمْ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page