فکر اسلامی
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
خُلَفَاءَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ (تم لوگ زمین پر اللہ کے خلیفہ ہو)“ کے خول سے نکلیں اور براہ راست قرآن وسنت میں دی ہوئی ابدی شناخت ”اَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ (تم لوگ زمین پر اللہ کے گواہ ہو)“ پر قوم کو دوبارہ کھڑا کریں۔ اس طرح تشخص کا بحران اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ مسلمان مَنْ نَحْنُ ( ہم کون ہیں) کا ایک ایسا جواب پالیں گے جو ہر حال میں انھیں حاصل رہتا ہے۔ اس کے بعد وہ بلا تاخیر جان لیں گے کہ ان کی حیثیت کیا ہے۔ انھیں اہل عالم کے سامنے کون سا کردار ادا کرنا ہے۔ یہ دریافت مسلمانوں کے لیے زندگی کے تمام راستے کھول دے گی۔ کوئی بھی دروازہ ایسا نہیں ہوگا جو اس کے بعد انھیں اپنے اوپر بند نظر آئے۔ محقق علما کا اختلاف علما کی اکثریت کا دعویٰ اگرچہ یہی ہے کہ چوتھی صدی ہجری کے بعد اجتہاد مطلق کا دروازہ بند ہو چکا ہے، اب صرف اجتہاد مقید کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ مگر محقق علما کی ایک تعداد اس نقطہ نظر کو نہیں مانتی۔ اس نے اس کو بے بنیاد قرار دے کر اسے رد کر دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس مشہور حدیث کے مطابق ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ اللہ میری امت کو کبھی ضلالت پر جمع نہیں کرے گا (اِنَّ اللهَ لَا يَجْمَعُ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ) سنن الترمذی، حدیث نمبر 2305۔ یہ رائے کہ اب چار مروج فقہی اسکول کے باہر جا کر اجتہاد نہیں کیا جا سکتا، یقینی طور پر خدا کے دین میں ایک انحراف ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ تم میں سے کسی شخص سے جب سوال کیا جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ کتاب اللہ میں دیکھے۔ اگر وہ اس میں نہ پائے تو سنت رسول میں دیکھے۔ اگر اس میں بھی نہ پائے تو جس پر مسلمان مجتمع ہوئے اس میں دیکھے۔ اور اگر اس میں بھی نہ پائے تو اس کو چاہیے کہ وہ خود اجتہاد کرے (اِذَا سُئِلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْظُرُ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader