Urdu book · فکر اسلامی

محقق علما کا اختلاف

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

فی كِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْهُ فَفِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْهُ فِيهَا فَلْيَنْظُرْ فِيمَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ، وَإِلَّا فَلْيَجْتَهِدْ ) المقاصد الحسنة للسخاوی: 1288 ۔ مذکورہ حدیث رسول کے مطابق ، ضروری تھا کہ سارے ہی علما انحراف میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ کچھ علما پھر بھی موجود ہیں جو اس معاملہ میں امر حق کا اعلان کریں۔ چنانچہ ہر دور میں ایسے محقق علما اٹھتے رہے ہیں جنھوں نے دین میں اس فکری انحراف کی تردید کی ہے۔ یہاں ہم چند رائیں نقل کرتے ہیں: علامہ بحر العلوم عبد العلی حنفی نے لکھا ہے کہ کچھ لوگوں کا قول ہے کہ اجتہاد مطلق ائمہ اربعہ کے ساتھ ختم ہو گیا ۔ یہاں تک کہ ان کا دعویٰ ہے کہ اب امت پر ان چاروں میں سے کسی ایک امام کی تقلید واجب ہے ۔ مگر یہ سب محض بے عقلی کی باتیں ہیں جس پر وہ کوئی دلیل نہیں دے سکے ہیں۔ ان کی اس بات کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ ایسے لوگوں پر وہ حدیث صادق آتی ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ انھوں نے علم کے بغیر فتویٰ دیا اور پھر خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا: وَأَمَّا الاجْتِهَادُ الْمُطْلَقُ فَقَالُوا إِنَّهُ اخْتُتِمَ بِالأَيِمَّةِ الأَرْبَعَةِ حَتَّى أَوْجَبُوا تَقْلِيدَ وَاحِدٍ مِنْ هَؤُلاءِ عَلَى الأُمَّةِ، وَهَذَا كُلُّهُ هَوَسٌ مِنْ هَوَسَاتِهِمْ لَمْ يَأْتُوا بِدَلِيلٍ وَلا يُعْبَأُ بِكَلامِهِمْ وَإِنَّمَا هُمْ مِنْ الَّذِينَ حَكَمَ الْحَدِيثُ أَنَّهُمْ أَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا“ (فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت ، مطبع نول کشور لکھنؤ، جلد ثانی، صفحه 624) شیخ محمد مصطفی المراغی (1881-1945) کا شمار جدید مصر کے اکابر علما میں ہوتا ہے۔ انھوں نے شریف اور اس سے ملحق دینی اداروں کے تعلیمی و تربیتی نظام کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق بنانے میں قابل قدر اصلاحی و تجدیدی خدمات انجام دی ہیں۔ وہ اجتہاد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page