محقق علما کا اختلاف
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
کے پرزور حامی تھے۔ یہاں تک کہ جولوگ اجتہاد کو ناممکن بتاتے ہیں ان کے خیال کی تردید کرتے ہوئے انھوں نے اپنی کتاب بحوث فی التشریع الاسلامی (صفحہ 10-11) میں لکھا ہے کہ مصر کے موجودہ دینی اداروں میں ایسے علما موجود ہیں جن کے اندر اجتہاد کی شرائط پوری طرح پائی جاتی ہیں اور اس لیے ان کے اوپر تقلید حرام ہے (وَإِنِّي مَعَ احْتِرَامِي لِرَأْيِ الْقَائِلِينَ بِاسْتِحَالَةِ الاجْتِهَادِ أُخَالِفُهُمْ فِي رَأْيِهِمْ وَأَقُولُ إِنَّ فِي عُلَمَاءِ الْمَعَاهِدِ الدِّينِيَّةِ فِي مِصْرَ مَنْ تَوَافَرَتْ فِيهِمْ شُرُوطُ الاجْتِهَادِ وَيَحْرُمُ عَلَيْهِمُ التَّقْلِيدُ)۔ مشہوریمنی عالم محمد بن علی الشوکانی (1834-1760) ان لوگوں میں سے ہیں جو اجتہاد کوعلما امت پر فرض قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے: ”لَا يَخْفَى عَلَى مَنْ لَهُ أَدْنَى فَهْمٍ أَنَّ الاجْتِهَادَ قَدْ يَسَّرَهُ اللَّهُ لِلْمُتَأَخِّرِينَ تَيْسِيرًا لَمْ يَكُنْ لِلسَّابِقِينَ؛ لِأَنَّ التَّفَاسِيرَ لِلْكِتَابِ الْعَزِيزِ قَدْ دُوِّنَتْ، وَصَارَتْ فِي الْكَثْرَةِ إِلَى حَدٍ لَا يَكُن حَصْرُهُ، وَالسُّنَّةَ الْمُطَهَّرَةَ قَدْ دُوِّنَتْ، وَتَكَلَّمَ علما الامَّةِ عَلَى التَّفْسِيرِ وَالتَّرْجِيحِ، وَالتَّصْحِيحِ، وَالتَّجْرِيحِ بِمَا هُوَ زِيَادَةٌ عَلَى مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ الْمُجْتَهِدُ... فَالاجْتِهَادُ عَلَى الْمُتَأَخِّرِينَ أَيْسَرُ وَأَسْهَلُ مِنَ الاجْتِهَادِ عَلَى الْمُتَقَدِّمِينَ، وَلَا يُخَالِفُ فِي هَذَا مَنْ لَهُ فَهْمٌ صَحِيحٌ، وَعَقْلٌ سَوِيٌّ“ (ارشاد الفحول للشوکانی، جلد 2، صفحہ 214)۔ یعنی، جو شخص بھی ادنی فہم و ادراک رکھتا ہے اس سے یہ بات مخفی نہیں کہ اللہ تعالی نے بعد کے لوگوں کے لیے اجتہاد اتنا آسان کر دیا ہے جتنا کہ وہ پہلے لوگوں کے لیے آسان نہ تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی تفسیریں لکھی جا چکی ہیں۔ جن کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کا شمار کرنا ممکن نہیں۔ اور حدیث کی بھی تدوین ہو چکی ہے۔ پھر امت کے علما نے اس سلسلہ میں تفسیر و توضیح اور ترجیح و تجریح کے اعتبار سے جو کچھ کہا اور لکھا ہے وہ اس سے کہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader