Urdu book · فکر اسلامی

محقق علما کا اختلاف

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

زیادہ ہے جس کی ایک مجتہد کو ضرورت ہوتی ہے۔ پس اجتہاد پچھلے لوگوں کی بہ نسبت بعد کے لوگوں کے لیے زیادہ سہل اور آسان تر ہے۔ جس شخص کے پاس بھی فہم صحیح اور عقل سلیم ہے وہ اس میں اختلاف نہیں کر سکتا۔ سلطان العلما عبدالعزیز ابن عبدالسلام (1262-1181) نے اس موضوع پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اجتہاد کا درجہ حاصل کرنا ممکن ہے جو کہ فتویٰ اور قضاء کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔ اور یہ اس زمانے تک باقی رہے گا جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ اس وقت علم اٹھا لیا جائے گا۔ مگر ہم ابھی اس زمانے تک نہیں پہنچے ہیں، ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ امت غلطی پر مجتمع ہو چکی ہے، جو سراسر باطل ہے (اِنَّ رُتْبَةَ الِاجْتِهَادِ مَقْدُورٌ عَلَى تَحْصِيلِهَا، وَهِيَ شَرْطٌ فِي الْفَتْوَى وَالْقَضَاءِ، وَهِيَ مَوْجُودَةٌ إِلَى الزَّمَانِ الَّذِي أُخْبِرَ عَنْهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بِانْقِطَاعِ الْعِلْمِ، وَلَمْ نَصِلْ إِلَيْهِ إِلَى الْآنَ، وَإِلَّا كَانَتِ الْأُمَّةُ مُجْتَمِعَةً عَلَى الْخَطَإِ، وَذَلِكَ بَاطِلٌ ) شرح مختصر ابن الحاجب، باب القضاء۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ دیکھیے ابن عبدالسلام نے کتنی صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ اجتہاد نا ممکن نہیں، اور یہ کہ وہ ان کے زمانے تک باقی رہا ہے، اور یہ کہ اجتہاد کے فقدان سے یہ لازم آتا ہے کہ ساری امت ناحق پر اکٹھا ہو جائے اور یہ محال ہے (فَانْظُرْ كَيْفَ صَرَّحَ بِأَنَّ رُتْبَةَ الِاجْتِهَادِ غَيْرُ مُتَعَذِّرَةٍ، وَأَنَّهَا بَاقِيَةٌ إِلَى زَمَانِهِ، وَبِأَنَّهُ يَلْزَمُ مِنْ فَقْدِهَا اجْتِمَاعُ الْأُمَّةِ عَلَى الْبَاطِلِ وَهُوَ مُحَالٌ) الرد علی من اخلد الی الارض، صفحہ 24۔ مولانا اشرف علی تھانوی (1943-1862) نے اس مسئلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا ہے: اگرچہ اس امر پر اجتماع نقل کیا گیا ہے کہ مذہب خامس مستحدث کرنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page