Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

جائز نہیں۔ یعنی جو مسئلہ چاروں مذہبوں کے خلاف ہو اس پر عمل جائز نہیں کہ حق دائر و منحصر اسی چار میں ہے۔ مگر اس پر بھی کوئی دلیل نہیں۔ کیوں کہ اہل ظاہر ہر زمانہ میں رہے ہیں۔ اور یہ بھی نہیں کہ سب اہل ہوی ہوں۔ وہ اس اتفاق سے علیحدہ رہے۔ دوسرے اگر اجماع ثابت بھی ہو جائے تو تقلید شخصی پر بھی اجماع نہیں ہوا (تذکرۃ الرشید، جلد اول، صفحہ 131)۔ قدیم وجدید کا فرق ایک مسلم اسکالر نے لکھا ہے کہ آرتھوڈاکسی کے فریم ورک میں رہ کر ہی اجتہاد کیا جانا چاہیے۔ یہ بات بجائے خود غلط نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آرتھوڈاکسی سے کیا مراد ہے۔ کیا اس سے مراد وہ چار فقہی اسکول ہیں جو چوتھی ہجری میں رائج ہوئے یا قرآن و سنت۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس دعویٰ کے حق میں کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں کہ آرتھوڈاکسی کے فریم ورک سے مراد ائمہ اربعہ کا فریم ورک ہے۔ ایسا دعویٰ نہ خود ائمہ اربعہ نے کیا۔ اور نہ قرآن و حدیث میں اس کا کوئی ثبوت پایا جاتا ہے۔ اس لیے آرتھوڈاکسی کے فریم ورک سے لازمی طور پر قرآن و سنت کا فریم ورک مراد لینا ہوگا۔ اس وضاحت کی روشنی میں دونوں قسم کے اجتہاد کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اجتہاد مطلق میں براہ راست قرآن و سنت پر غور کر کے حکم معلوم کیا جاتا ہے، جب کہ اجتہاد مقید میں آدمی پابند ہوتا ہے کہ وہ مدون فقہ کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی رائے قائم کرے۔ موجودہ زمانہ میں اسلامی تفکیر کے معطل ہونے کا اصل سبب یہی تقسیم ہے۔ موجودہ زمانہ کا عالم شعوری یا غیر شعوری طور پر مدوّن فقہ کے ڈھانچہ سے باہر جا کر سوچ نہیں پاتا، اس لیے وہ موجودہ زمانہ کے فکری مسائل میں گہری رہنمائی دینے سے بھی قاصر رہتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، فقہا اربعہ کا زمانہ دور جدید سے بہت پہلے کا زمانہ ہے۔ اس لیے یہ بالکل فطری بات ہے کہ ان کی مدون کی ہوئی فقہ اپنے بعد کے زمانہ کا احاطہ کرنے والی نہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page