Urdu book · فکر اسلامی

قدیم وجدید کا فرق

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو ۔ بعد کے زمانہ کے لیے رہنمائی کتاب وسنت سے ملے گی جو کہ ابدی ہے، نہ کہ مدون فقہ سے جو یقینی طور پر وقتی اور زمانی ہے۔ اس معاملہ کو مثال سے سمجھئے۔ موجودہ فقہ خلافت عباسی کے زمانہ میں بنی۔ اس وقت مسلمانوں کو زمین پر کلی اقتدار حاصل تھا۔ چنانچہ یہ مدون فقہ یہ تو بتاتی ہے کہ مسلمان جب حکمراں حیثیت میں ہوں تو ان کے لیے شرعی احکام کیا ہیں۔ اس میں ایسے ابواب کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ لیکن اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ مسلمان جب اپنے آپ کو غیر حکمراں حیثیت میں پائیں ، اس وقت ان کے لیے شرعی حکم کیا ہے۔ تو اس کا واضح جواب آپ کو موجودہ مدون فقہ میں نہیں ملے گا۔ اسی طرح موجودہ فقہ جس وقت مدون کی گئی اس وقت شخصی حاکمیت کا زمانہ تھا۔ موجودہ قسم کی عوامی جمہوریت اس وقت قائم نہیں ہوئی تھی، اس لیے اس فقہ میں خلیفہ اور سلطان سے متعلق احکام تو بہت ملیں گے لیکن اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ مسلمان کسی ملک میں تنہا حاکم نہ ہوں ، البتہ وہ جمہوری نظام کے تحت دوسری قوموں کے ساتھ شریک حکومت ہوں ، ایسی حالت میں ان کے لیے شرعی احکام کیا ہیں ، تو اس کی بابت بھی موجودہ مدون فقہ میں آپ کو کوئی رہنمائی نہیں پائیں گے۔ یہ کمی صرف مدون فقہ کے اندر ہے۔ اگر آپ اس فقہ سے گزر کر قرآن وسنت تک پہنچ جائیں تو آپ پائیں گے کہ قرآن وسنت میں ہر صورت حال کے لیے کامل رہنمائی موجود ہے۔ اب آپ دیکھیں گے کہ قرآن اتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ (64:16) کا اصول بتا رہا ہے ۔ یعنی جتنا وسع اتنی ہی تکلیف (ذمہ داری) ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی چار بڑے دوروں میں تقسیم تھی۔ مکی زندگی کے دو دور ، اور مدنی زندگی کے دو دور۔ مکی زندگی کے ابتدائی چند سال خفیہ تبلیغ اور تنہا نماز پڑھنے کے سال ہیں۔ اس کے بعد مکی زندگی کا نصف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page