فکر اسلامی
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
آخر ہے جس میں علی الاعلان تبلیغ اور کھلم کھلا عبادت کا حکم دے دیا گیا۔ یہی معاملہ ہجرت کے بعد مدنی دور کا ہے۔ مدنی دور کے ابتدائی چند سال وہ ہیں جب کہ ایک صحیفہ یا چارٹر کے ذریعہ مسلمان اور یہود یا مسلم اور غیر مسلم کو ملا کر ایک مشترک نظام بنایا گیا (لِلْيَهُودِ دِيْنُهُمْ، وَلِلْمُسْلِمِيْنَ دِينُهُمْ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 107۔ مگر مدنی دور کے نصف آخر میں حالات بدل گئے تو مدینہ میں وحدانی طرز کا نظام قائم کر دیا گیا۔ اس مثال کی روشنی میں غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ہماری مدون فقہ صرف ایک صورت میں ہم کورہنمائی دے رہی تھی، اس صورت میں جب کہ ہم زمین پر حاکم کی حیثیت میں ہوں۔ مگر براہ راست قرآن وسنت کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوا کہ ہر صورت حال کے لیے ہمارے پاس رہنمائی موجود ہے۔ مکہ کے نصف اول جیسے حالات ہوں تب بھی ہمارے لیے نمونہ ہے، اور مکہ کے نصف آخر جیسے حالات ہوں تب بھی۔ اسی طرح اگر ہم مدینہ کے نصف اول جیسے حالات میں ہوں تب بھی ہمارے پاس رہنمائی موجود ہے اور اگر ہم مدینہ کے نصف آخر جیسے حالات میں ہوں تب بھی۔ اجتہاد مقید کی صورت میں ہم گویا ایک بند گلی میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ مگر اجتہاد مطلق ہمارے لیے زندگی کے تمام دروازے کھول دیتا ہے، اس کے بعد کوئی دروازہ ہمارے لیے بند نہیں رہتا۔ صلاحیتوں کا فقدان نہیں میں سمجھتا ہوں کہ اجتہاد مطلق کو ”مجتہد مطلق“ کی پیدائش کے ساتھ جوڑنا بجائے خود ایک غیر معقول بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ کا تعلق تمام تر ذہنیت سے ہے، نہ کہ کسی مفروضہ مجتہد مطلق کی پیدائش سے۔ یعنی ملت کے اوپر اگر ذہنی جمود کی حالت طاری نہ ہو، بلکہ اس کے اندر آزادانہ فکر کی فضا موجود ہو تو اجتہاد مطلق کا عمل بھی لازمی طور پر جاری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader