صلاحیتوں کا فقدان نہیں
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
رہے گا۔ مجتہد مطلق تو ہمیشہ ہی پیدا ہوتے ہیں۔ البتہ آزادی فکر کی فضا نہ ہونے کی وجہ سے ان کو وہ سازگار ماحول نہیں ملتا جس میں وہ اپنے حصہ کا عمل انجام دے سکیں۔ عالی دماغ انسانوں کی پیدائش کبھی بند نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ چنانچہ خود نظام فطرت کے تحت اسلام کے بعد کی تاریخ میں بار بار اعلیٰ صلاحیت کے اہل علم پیدا ہوتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر الغزالی (1058-1111) ابن تیمیہ (1328-1263) الشاطبی (وفات 1388) جلال الدین سیوطی (1505-1445) شاہ ولی اللہ (1762-1703) انور شاہ کشمیری (1934-1875)، وغیرہ۔ یہ کہنا امت محمدی کی تصغیر ہے کہ ائمہ اربعہ کے بعد اس صلاحیت کے لوگ امت میں پیدا نہیں ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ چوتھی صدی ہجری کے بعد بھی ایسے لوگ امت میں پیدا ہوتے رہے جو اپنے وسیع علمی مطالعہ، اپنی اعلیٰ ذہنی استعداد اور اپنی بے داغ اسلامیت کے ساتھ اس قابل تھے کہ وہ مجتہد مطلق کا کردار ادا کر سکیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین کے دور میں بہت سے ایسے لوگ ابھرے جو مجتہدانہ زبان میں کلام کرتے تھے۔ مثلاً عائشہ صدیقہ (وفات 58ھ)، عبداللہ بن عمر (وفات 73ھ)، ابراہیم نخعی (وفات 96ھ)، سفیان ثوری (وفات 161ھ)، امام شعبی (وفات 104ھ) اور دور اول کے دیگر علما فقہ، وغیرہ۔ مگر چوتھی صدی ہجری کے بعد اٹھنے والے علما اپنی تمام صلاحیتوں کے باوجود، مجتہدانہ انداز میں بولنے کی جرات نہ کر سکے۔ اس کی وجہ شخصی استعداد کا فرق نہیں ہے بلکہ دور کا فرق ہے۔ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین کے دور میں مکمل آزادی رائے تھی۔ لوگ کھلے طور پر ایک دوسرے سے اختلاف کرتے تھے۔ انسانوں کو اکابر اور اصاغر میں تقسیم نہیں کیا گیا تھا، لوگ قائل کو نہیں دیکھتے تھے بلکہ قول کو دیکھتے تھے۔ ہر صاحب دلیل کو حق تھا کہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader