فکر اسلامی
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی بات کو دلیل کے ساتھ بیان کرے ۔ اس ماحول نے اجتہاد کا عمل جاری کر رکھا تھا۔ بعد کو جب یہ ماحول ختم ہو گیا تو اجتہاد کا عمل بھی باقی نہ رہا۔ پہلے اگر حق پرستی کی فضا تھی تو اب اکابر پرستی کی فضا پیدا ہو گئی ۔ اب لوگ ایسی بات کہنے سے ڈرنے لگے جو ماضی کے بڑوں کی رائے سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔ اس فضا میں قدرتی طور پر اجتہاد مطلق ( آزادانہ اظہار رائے ) ختم ہو گیا۔ اب وہی بات کہی جانے لگی جو کسی نہ کسی طرح مسلمہ اکابر کے اقوال سے مطابقت رکھتی ہو۔ یہی وہ ماحول ہے ( نہ کہ کوئی شرعی حکم یا پیدائشی نقص ) جس نے بعد کو اجتہاد مطلق کا دروازہ بند کر دیا اور صرف اجتہاد مقید کا دروازہ لوگوں کے لیے کھلا رکھا۔ میرے علم کے مطابق ، بعد کی اسلامی تاریخ میں صرف ایک شخص ہے جس نے مجتہد مطلق کی زبان میں بولنے کی ہمت کی، اور وہ ابن خلدون (1406-1332) ہے۔ مگر ابن خلدون بھی یہ کام صرف جزئی طور پر کر سکا۔ اس نے عمرانیات اور فلسفہ تاریخ میں بلا شبہ مجتہدانہ کلام کیا۔ مگر خالص دینی معاملات میں اس نے بھی غیر مقید اجتہاد کرنے کی بہت کم جرأت کی۔ دورِ جدید کا آغاز جدید مسائل کا آغاز خاص طور پر اٹھارویں صدی عیسوی سے ہوتا ہے۔ یہ وہی زمانہ ہے جس میں شاہ ولی اللہ دہلوی (1703-1762) ظاہر ہوئے۔ شاہ ولی اللہ کو غالباً خواب میں اس کا اشارہ بھی دیا گیا کہ وہ ایک نئے دور کے سرے پر پیدا ہوئے ہیں ۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب فیوض الحرمین میں لکھتے ہیں کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں قائم الزمان ہوں (رَأَيْتُنِي فِي الْمَنَامِ قَائِمَ الزَّمَانِ) فیوض الحرمین 2007 ، حیدر آباد سندھ، صفحہ 111 ۔ مگر شاہ ولی اللہ اپنے آپ کو روایتی سانچے سے باہر نہ نکال سکے ، اس لیے وہ دورِ جدید

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader