Urdu book · فکر اسلامی

دور جدید کا آغاز

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اعتبار سے افکار اسلامی کی تعیین بھی نہ کرسکے۔ اس میں دوراے نہیں ہوسکتی کہ نئے مسائل کا جواب فراہم کرنے کا کام صرف اجتہاد کے ذریعہ ہی ممکن تھا۔ مگر شاہ ولی اللہ نے ایک طرف قائم الزماں ہونے کا اعلان کیا، دوسری طرف اپنے اوپر اجتہاد کا دروازہ بند کرلیا، حالانکہ قائم الزمان کی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے اجتہاد کا عمل لازمی طور پر ضروری تھا۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے عقد الجید فی احکام الاجتہاد و التقلید اور بعض دوسری کتابوں میں اجتہاد کے مسئلہ پر کلام کیا ہے۔ اس معاملہ میں ان کی رائے کا خلاصہ یہ ہے کہ اجتہاد کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اجتہاد مطلق، اور دوسرا اجتہاد مقید۔ وضاحت کی خاطر، اس کو ہم کلی اجتہاد اور جزئی اجتہاد بھی کہہ سکتے ہیں۔ شاہ صاحب کے نزدیک اب اجتہاد مطلق کا دروازہ بند ہو چکا ہے ۔ کیوں کہ امام شافعی (820-767ء) کے بعد اب کوئی مجتہد مطلق پیدا ہونے والا نہیں۔ شاہ صاحب کے نزدیک اب قیامت تک کے لیے اجتہاد کی صرف دوسری قسم (اجتہاد مقید) کی گنجائش باقی ہے۔ اب جو شخص بھی اجتہاد کرنا چاہے گا اس کو لازمی طور پر ائمہ اربعہ کے مقرر کیے ہوئے طریقوں کی بنیاد پر استنباط کرنا ہوگا۔ وہ بلا قید اجتہاد نہیں کرسکتا۔ اگر چہ اجتہاد مطلق کا حق اب کسی کو نہیں ، مگر اجتہاد مقید کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور وہ ہمیشہ کھلا رہے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک غیر ضروری تقسیم ہے ۔ اجتہاد کا انقطاع ہو گیا یا نہیں ، یہ سوال اصلاً اجتہاد مطلق یا اجتہاد مستقل کے سلسلہ میں پیدا ہوتا ہے۔ کیوں کہ جہاں تک اجتہاد مقید کا تعلق ہے، وہ تو ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ وہ ہر حال میں جاری رہے گا، خواہ اس کا دروازہ بند کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ حتی کہ لفظی اعلان کے بغیر بھی وہ ہمیشہ خود اپنے زور پر جاری رہتا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ دشمنوں سے مقابلہ کے لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page