Urdu book · فکر اسلامی

دور جدید کا آغاز

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

قوت فراہم کرو (8:60)۔ حدیث میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ سن لو کہ قوت سے مراد تیر مارنا ہے، سن لو کہ قوت سے مراد تیر مارنا ہے (أَلاَ إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيِ) صحیح مسلم، حدیث نمبر 1917۔ موجودہ زمانہ میں بم اور گن کی ایجاد ہوئی تو ساری دنیا کے مسلمان جنگ کے مواقع پر بم اور گن کا استعمال کرنے لگے۔ حالاں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ علما نے ”اجتہاد مقید“ کر کے یہ اعلان کیا ہو کہ قدیم زمانہ میں قوت کا مطلب تیر تھا، مگر آج قوت کا مطلب گن اور بم ہے۔ اس قسم کے کسی اعلان کے بغیر ساری دنیا کے مسلمانوں نے خود بخود اس معاملہ میں مجتہدانہ روش کو اختیار کر لیا۔ اس لیے اجتہاد کی بحث میں اصلاً قابلِ غور معاملہ اجتہادِ مطلق یا اجتہاد کلی کا ہے۔ کیونکہ اجتہاد مقید تو خود حالات کے زور پر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ وہ ایک فطری ضرورت ہے، اور اس کا انقطاع سرے سے ممکن ہی نہیں۔ تا ہم اجتہاد کی یہ درجہ بندی صرف یہ ثابت کرتی ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی اجتہاد کی مستقل اہمیت سے واقف نہ ہو سکے۔ بظاہر وہ سمجھتے تھے کہ وہی پچھلا روایتی دور اب بھی چلا جا رہا ہے جو امام شافعی کے زمانہ میں تھا۔ حالاں کہ زمانہ یکسر بدل چکا تھا۔ اور اب نئے حالات کے نتیجہ میں اجتہادِ مطلق کی ضرورت پیش آ چکی تھی۔ اجتہاد کا مقصد یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں شریعت کا از سر نو انطباق (re-application) کیا جائے۔ پھر جب حالات وہ نہ رہیں جو فقہا اربعہ کے زمانہ میں تھے تو اجتہاد مقید کس طرح کافی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد تو لازم ہو جاتا ہے کہ اسی طرح دوبارہ اجتہادِ مطلق سے کام لیا جائے جس طرح فقہا اربعہ نے اجتہادِ مطلق سے کام لیا تھا۔ تا کہ اسلام کو دوبارہ وقت کے حالات پر منطبق کرنا ممکن ہو سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page