دور جدید کا آغاز
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
بنو عباس کے دور میں فقہا اربعہ کو اجتہاد مطلق کا حق اسی لیے ملا تھا کہ اس وقت معاشرہ کے حالات بدل گئے تھے، جب کہ قرآن و حدیث کا ذخیرہ پوری طرح لوگوں کے پاس موجود تھا۔ اب انسانی حالات میں اس سے بھی زیادہ بڑی تبدیلی آ چکی ہے جو بنو عباس کے زمانہ میں آئی تھی۔ پھر اگر کمتر تبدیلی کی بنا پر قرآن و حدیث اور آراے صحابہ کے مقابلہ میں اجتہاد مطلق کیا جا سکتا تھا تو زیادہ بڑی تبدیلی کے بعد فقہا کی آراے کے مقابلہ میں اجتہاد مطلق کیوں نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کوئی بے جسارت نہیں، بلکہ زندگی کی ایک اٹل حقیقت ہے جس کا شعور خود ہمارے قدیم مجتہدین کو بھی تھا۔ مثلاً ابو داؤد کہتے ہیں کہ امام احمد ابن حنبل کو میں نے کہتے ہوئے سنا کہ تم میری تقلید نہ کرو، نہ ہی مالک اور ثوری اور اوزاعی کی تقلید کرو۔ بلکہ تم وہاں سے لو جہاں سے انھوں نے لیا ہے یعنی قرآن و سنت سے (لَا تُقَلِّدْنِي وَلَا تُقَلِّدْ مَالِكاً وَلَا الثَّوْرِيَّ وَلَا الْأَوْزَاعِيَّ، وَخُذْ مِنْ حَيْثُ أَخَذُوا) اعلام الموقعین، جلد 2، صفحہ 139۔ شاہ ولی اللہ کے مذکورہ موقف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر نہ وہ مقامی تبدیلیوں سے پوری طرح باخبر تھے اور نہ عالمی تبدیلیوں سے۔ حتیٰ کہ ان کی کتابوں سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ان علمی ترقیوں سے بخوبی طور پر واقف تھے جو ان کی پیدائش سے پہلے خود مسلم اسپین میں ہو چکی تھیں۔ مسلم اسپین کی ترقیاں اس بات کی علامت تھیں کہ اب دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جب کہ ”سیف“ کے مقابلہ میں ”علم“ قوت کا نشان ہوگا۔ یہ ترقیاتی سفر پندرہویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کے دائرہ سے نکل کر لاطینی یورپ کے دائرہ میں پہنچ گیا۔ مگر بظاہر شاہ ولی اللہ کے لیے یہ سب کچھ لامعلوم تھا۔ یورپ کے مختلف ملکوں (اٹلی، فرانس، انگلینڈ، وغیرہ) میں مذکورہ علمی ترقی اضافہ کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader