فکر اسلامی
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
جدید فنی ترقیوں اور جدید وسائل کے ذریعہ وجود میں آیا۔ مگر شاہ ولی اللہ دہلوی کی کسی بھی تحریر سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ان تاریخی تبدیلیوں سے باخبر تھے۔ شاہ صاحب کی مشہور ترین کتاب حجتہ البالغہ پہلی بار صرف انیسویں صدی (1870ء) میں چھپ سکی۔ جب کہ یورپ میں پرنٹنگ پریس کا استعمال پندرہویں صدی عیسوی میں شروع ہو چکا تھا۔ یہ ایک علامتی فرق ہے جو بتاتا ہے کہ شاہ صاحب اور ان کے اصحاب کا فکر کس طرح عالمی فکر سے کئی سو سال پیچھے تھا۔ موجودہ صورتِ حال خلافتِ عباسی کے دور میں جب بیرونی افکار و علوم سے مسلمانوں کا مقابلہ پیش آیا تو انھوں نے بہت جلد ان کے مقابلہ میں اسلام کا موقف متعین کر لیا۔ مگر یہی بات موجودہ زمانہ میں حاصل نہ ہو سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بنو عباس کے زمانہ میں مسلمان فاتحانہ نفسیات کے حامل تھے۔ انھوں نے کھلے ذہن (عقلیۃ الانفتاح) سے افکار و علوم کا جائزہ لیا۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ کی تبدیلیاں اس وقت پیش آئیں جب کہ مسلمان مغلوبانہ نفسیات میں مبتلا ہو چکے تھے۔ چنانچہ اب انھوں نے ہر چیز کو شبہ کی نظر سے دیکھا۔ جب بھی ان کا مقابلہ مغربی قوموں سے پیش آیا تو فوراً وہ ان کے لیے عزت نفس کا سوال بن گیا۔ یہی وہ نفسیاتی فرق ہے جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ ماضی کی تبدیلیوں کو اپنی غذا بنانے والے لوگ جدید تبدیلیوں کو صرف اپنا حریف سمجھ کر اس سے دور ہو گئے۔ ایسی حالت میں یہ بالکل فطری بات تھی کہ ہمارے علما اور دانشوروں کو جدید حقائق کی کوئی خبر نہ ہو سکے۔ سازش کا نظریہ یہ ذہن پیدا کرتا ہے کہ موجودہ صورتِ حال کا کوئی حقیقی سبب نہیں۔ وہ صرف مکر و فریب کا ایک نتیجہ ہے۔ جب کہ علمی تحقیق کے لیے ضروری ہے کہ پیش آمدہ واقعہ کو آپ حقیقی تاریخی اسباب کے تحت پیش آنے والا واقعہ سمجھیں ۔ سازش کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader