موجودہ صورت حال
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
اس غیر واقعی نظریہ نے دورِ جدید کے مسلمانوں سے یہ جذبہ چھین لیا کہ وہ غیر جانب دارانہ انداز میں دوسری قوموں کا مطالعہ کریں۔ اور ان کی قوت اور ترقی کے اسباب کو جاننے کی کوشش کریں۔ اپنے موجودہ ذہن کے تحت وہ زیادہ سے زیادہ بس ’’سازشوں‘‘ کی کھوج میں مصروف ہو سکتے تھے۔ فطری حقائق اور تاریخی عوامل کی تلاش کا جذبہ ان کے اندر پیدا انہیں ہو سکتا تھا، کیونکہ ان کے نزدیک وہ سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ دورِ جدید کے ظہور پر اب تقریباً تین سوسال کی مدت گزر چکی ہے۔ مگر حالت یہ ہے کہ آج بھی ہمارے کتب خانہ میں تہافۃ الفلاسفۃ (الغزالی) اور الرد علی المنطقیین (ابن تیمیہ) جیسی کتابیں موجود نہیں جو وقت کے افکار کے مقابلہ میں اسلام کے موقف کو مستحکم کرتی ہوں ۔ حتّیٰ کہ جدید افکار کے تعارف کے لیے مقاصد الفلاسفۃ (الغزالی) جیسی کوئی مستند کتاب تیار نہ جاسکی۔ تا ہم میں کہوں گا کہ یہ مسئلہ موجودگیِ رجال کے فقدان کا نہیں ہے بلکہ استعمالِ رجال کے فقدان کا ہے، یعنی با صلاحیت افراد موجود ہیں۔ مگر غیر صحت مند ماحول کی وجہ سے ان کی صلاحیتیں اپنا صحیح رخ پانے سے محروم رہیں۔ موجودہ زمانہ کے اخبارات، جرائد اور کتابیں آپ پڑھیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہمارے تقریباً تمام علما اور دانشور ایک ہی نظریہ کو اپنے ذہن میں جگہ دیے ہوئے ہیں، اور وہ سازش (مؤامرات) کا نظریہ ہے۔ ہمارے تقریباً تمام لکھنے اور بولنے والے مسلسل یہ بتا رہے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی پستی اور مغلوبیت کا سبب صرف اغیار ہیں۔ صلیبی اور صیہونی اور امریکی استعمار کی سازشوں نے ہمارے لیے مصنوعی مسائل پیدا کر رکھے ہیں۔ ایسی حالت میں ذہن ہمیشہ انکشافِ سازش پر چلے گا نہ کہ دریافتِ حقائق پر۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میں مفروضہ سازشوں کے ’’انکشاف‘‘ پر سینکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مگر جہاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader