Urdu book · فکر اسلامی

موجودہ صورت حال

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

تک جدید افکار کا تعلق ہے، ان کے مستند تعارف پر بھی کوئی کتاب موجود نہیں ، کجا کہ ان افکار کے مقابلہ میں اسلام کی تشریح و تبیین پر کوئی طاقت ور کتاب تیار کی گئی ہو۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ پہلے رخ پر لوگوں کا ذہن خوب چلا ، اور دوسرے رخ پر سرے سے ان کا ذہن متحرک ہی نہیں ہوا۔ اسلامی لٹریچر کی ترتیب جدید دورِ اول میں جو اسلامی لٹریچر تیار ہوا ، وہ سب کا سب دورِ اقتدار میں تیار ہوا۔ اس کا نتیجہ فطری طور پر یہ تھا کہ وہ زمانی حالات سے متاثر ہو گیا۔ مثال کے طور پر شاتم رسول کی سزا کے مسئلہ پر متعدد کتا بیں ہمارے اسلامی کتب خانہ میں موجود ہیں۔ یہ سب کی سب دور اقتدار میں لکھی گئی ہیں۔ مثلاً : ابن تیمیہ الحرانی : الصارم المسلول علی شاتم الرسول ابن عابدین الشامی : تنبیہ الولاة والحكام علی احکام شاتم خیرالانام تقی الدین ابوالحسن علی السکی : السیف المسلول علی من سب الرسول ان کتابوں میں بے دریغ طور پر شاتم رسول کے بارے میں اسلام کا یہ حکم بتایا گیا ہے کہ وہ بطور حد قتل کیا جائے گا (يُقْتَلُ حَدًّا) ، اور یہ کہ سب وشتم کرنے والا قتل کیا جائے گا خواہ وہ مسلم ہو یا کافر (اِنَّ السَّابَّ يُقْتَلُ سَواءٌ كانَ مُسْلِماً اَوْ كَافِراً ) ۔ یہ کتابیں جب لکھی گئیں ، اس وقت مسلمانوں کو زمین پر کلی اقتدار حاصل تھا۔ آج کل کی زبان میں وہ واحد سپر پاور کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس وقت کا مفتی اور عالم اس پوزیشن میں تھا کہ اس کے لکھے یا بولے ہوئے الفاظ واقعہ بن جائیں۔ چنانچہ اسی احساس کے تحت یہ تمام کتابیں لکھی گئیں۔ مگر موجودہ زمانہ میں دوا ایسی نئی صورتیں پیدا ہوئی ہیں جن سے ہمارا قدیم مفتی یا عالم مکمل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page