موجودہ صورت حال
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
طور پر بے خبر تھا۔ ایک یہ کہ آج مسلمان مغلوب ہیں اور ہر قسم کا غلبہ ان قوموں کی طرف چلا گیا ہے جن کے مذہب کا اولین مقدس اصول یہ ہے کہ انسان کو لامحدود طور پر اظہارِ خیال کی آزادی حاصل ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان اگر کسی کی تصنیف پر اس کو شاتم قرار دے کر اس کے قتل کا فتویٰ دیں تو فوری طور پر وہ شخص ان غالب قوموں کا ہیرو بن جاتا ہے ۔ یہ قومیں اپنے اعلیٰ وسائل کے ساتھ اس طرح اس کی حمایت پر آ جاتی ہیں کہ مسلمان عوام اور خواص سب کے سب ان کے مقابلہ میں بے بس ہو جاتے ہیں۔ اس طرح قتل کا فتویٰ صرف ایک مضحکہ خیز لفظی اعلان بن کر رہ جاتا ہے۔ دوسری اس سے بھی زیادہ شدید بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ایک بالکل نئی طاقت ظہور میں آئی ہے جس کو میڈیا کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا، دونوں ہی مکمل طور پر انھیں غالب قوموں کے ہاتھ میں ہیں۔ اس کے ذریعہ وہ مسلم علما کے فتووں کو ساری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر وہ اسلام کو اس طرح پیش کرتے ہیں گویا کہ وہ کوئی وحشیانہ مذہب ہے جو بات بات پر لوگوں کو مارنے اور قتل کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ اسلام امن کا مذہب نہیں بلکہ تشدد کا مذہب ہے۔ وغیرہ اس طرح شاتم کو قتل کرنے کے موجودہ فتوے شاتم کو تو قتل نہ کر سکے۔ البتہ وہ شدید طور پر اسلام کی بدنامی کا سبب بن گئے۔ وہ صرف الٹا نتیجہ پیدا کرنے والے (counter-productive) ثابت ہوئے۔ حالاں کہ واقعات بتاتے ہیں کہ اس معاملہ میں خود اسلام میں حالات کے اعتبار سے فرق کیا گیا ہے۔ چنانچہ ابن تیمیہ اور دوسرے حضرات شاتم کی سزا کے جتنے بھی واقعات کا حوالہ دیتے ہیں وہ سب مدنی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ یعنی اس دور سے جب کہ اسلام کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader