موجودہ صورت حال
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
با اقتدار حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ اس کے برعکس مکی دور میں جب کہ اقتدار اعلیٰ اسلام کے ہاتھ میں نہیں تھا، ابولہب کی بیوی اُمِ جمیل نے علی الاعلان بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مذمم کہا (مُدَمَّمًا أَبَيْنَا) اخبار مکہ للارزقی، جلد 1، صفحہ 316 مگر نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاتم کی حد بیان فرمائی اور نہ آپ کے اصحاب دوڑے کہ اس شاتم کو قتل کر ڈالیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مذکورہ قسم کی کتابوں میں بعد کے زمانہ میں پیش آنے والے حالات کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ کتابیں اپنی تمام خوبیوں کے باوجود موجودہ زمانہ کے اعتبار سے غیر متعلق ہو کر رہ گئی ہیں۔ یہی کم و بیش اس پورے تصنیفی ذخیرہ کا حال ہے، جس کو آج اسلامی کتب خانہ کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ کسی مستند تفسیر کو پڑھئے۔ آپ پائیں گے کہ اس میں صبر و اعراض کی آیتوں کو منسوخ بتایا گیا ہے۔ مثلاً القرطبی کی تفسیر الجامع لاحکام القرآن میں اس آیت: وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِينَ (15:94) یعنی، اور مشرکوں سے اعراض کرو ـــ کے تحت لکھا ہوا ہے کہ وہ منسوخ ہے: هُوَ مَنْسُوخُ بِقَوْلِهِ ”فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِينَ “ (جلد 10، صفحہ 62)۔ اسی طرح سورہ النحل کی یہ آیت: وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّهِ (16:127) ــ یعنی، اور صبر کرو اور تمہارا صبر خدا ہی کی توفیق سے ہے ــ کے تحت درج ہے کہ جنگ کی آیت نازل ہونے کے بعد وہ منسوخ ہوگئی: هِيَ مَنْسُوخَةٌ بِالْقِتَال (جلد 10، صفحہ 202)۔ صبر و اعراض اسلام کا اہم ترین حکم ہے۔ قرآن میں کہیں بالواسطہ انداز میں اور کہیں براہ راست طور پر اس کی تاکید کی گئی ہے۔ حتیٰ کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پورا قرآن کتاب صبر ہے۔ مگر جو آدمی تفسیر کی ان کتابوں کو پڑھے اس کا عام تاثر فطری طور پر یہ ہوگا کہ صبر و اعراض کی آیتیں اب صرف تلاوت کے لیے ہیں۔ اب ہم سے متعلق جو قرآنی حکم ہے وہ صرف جہاد و قتال ہے۔ صبر و اعراض کا حکم کمزوری کے دور میں تھا، اب مسلمان طاقتور ہیں۔ اب ہمیں صبر نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader