Urdu book · فکر اسلامی

موجودہ صورت حال

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنا ہے، بلکہ لڑ کر غیر اسلامی عناصر کو زیر کرنا ہے۔ اسی طرح حدیث کی کتابیں بے شمار قیمتی تعلیمات سے لبریز ہیں، مگر اپنی موجودہ ترتیب کے اعتبار سے وہ غلط فہمی کا باعث بنتی ہیں۔ مثال کے طور پر آپ صحاح ستہ یا حدیث کی کوئی مستند کتاب اٹھا کر دیکھیں ، اس میں آپ کو دعوت و تبلیغ کا باب نہیں ملے گا۔ موجودہ کتب حدیث میں ، باعتبار ترتیب، ہر قسم کے ابواب ہیں، مگر دعوت و تبلیغ کا باب ان میں سرے سے موجود نہیں۔ جو لوگ ان کتب حدیث کو پڑھتے ہیں ، وہ قدرتی طور پر تراجم ابواب کے تحت انھیں پڑھتے ہیں۔ اس طرح ان کو پڑھ کر شعوری یا غیر شعوری طور پر قاری کے اندر غیر دعوتی ذہن بنتا ہے۔ جہاد و قتال کے ابواب سے تو وہ خوب آشنا ہو جاتا ہے۔ مگر دعوت و تبلیغ کی اہمیت سے وہ یکسر غافل رہتا ہے۔ اسی طرح سیرت رسول پر لکھی جانے والی کتابوں کو دیکھئے ۔ سیرت کی تقریباً تمام مستند کتابیں غزواتی پیٹرن پر لکھی گئی ہیں۔ ابن ہشام کی مشہور چار جلدوں کی سیرت کا ایک جلد سے کچھ زیادہ حصہ 13 سالہ مکی دور پر ہے، اور بقیہ تقریباً تین جلدیں 10 سالہ مدنی دور پر۔ مدنی دور کے ابواب کی ترتیب سیرت کی تمام کتابوں میں غزوات کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ سیرت کی ابتدائی کتابوں کا نام ہی ’’ مغازی‘‘ ہوا کرتا تھا۔ اگرچہ بعد کی کتابوں کے نام مغازی پر نہیں رکھے گئے، مگر عملاً سیرت کی تقریباً تمام کتابیں مغازی ہی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاریخ تک پہنچ کر یہ صورت حال اور زیادہ سنگین ہو جاتی ہے۔ کیوں کہ تاریخ اسلام پر لکھی جانے والی کتابیں ، تقریباً بلا استثناء ، جنگ آزمائی اور کشور کشائی کی داستان نظر آتی ہیں۔ یہ سیاسی فتح و شکست اور بادشاہوں کی موت و حیات کا بیان ہو کر رہ گئی ہیں۔ علامہ ابن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page