Urdu book · فکر اسلامی

موجودہ صورت حال

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

خلدون نے پہلی بار اسلامی تاریخ کی اس کمی کا احساس کیا۔ اور وسیع تر انداز میں اسلام کی جامع تاریخ لکھنا چاہا۔ انھوں نے اپنے مقدمۂ تاریخ میں کامیابی کے ساتھ اس جدید تاریخ کے اصول مقرر کیے ۔ مگر وہ خود بھی اس انداز پر اسلام کی تاریخ مرتب نہ کر سکے۔ بعد کے دور میں جو کتابیں لکھی گئیں (صوفیا کی غیر معتبر کتابوں کو چھوڑ کر) تقریباً سب کی سب اسی نہج پر تھیں۔ مثال کے طور پر شاہ ولی اللہ کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ کو مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے ایک معرکۃ الآراء کتاب بتایا ہے، اور لکھا ہے کہ اس میں دین و نظامِ شریعت کا نہایت مربوط، جامع اور مدلل نقشہ پیش کیا گیا ہے (صفحہ 215)۔ مگر اس کتاب کا حال یہ ہے کہ اس میں مسواک اور سُترہ تک کے ابواب ہیں۔ مگر اس میں دعوت و تبلیغ کا سرے سے کوئی باب ہی نہیں۔ اس کے برعکس، اس میں جہاد و قتال کو سب سے زیادہ اہم اسلامی عمل بتایا گیا ہے۔ یہ یقینی طور پر زمانی حالات کے زیر اثر ہے۔ کیونکہ ابدی تناظر میں اسلام کی سب سے بڑی خارجی تعلیم دعوت ہے، اور جہاد (بمعنی قتال) صرف ایک اتفاقی یا نسبتی (relative) عمل ہے۔ یعنی دعوت کا عمل علی الاطلاق طور پر ہر حال میں جاری رہتا ہے۔ جب کہ جہاد (بمعنی قتال) صرف مخصوص شرائط و احوال میں وقتی طور پر مطلوب ہوتا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان ایک جنگ جو قوم بن گئے ہیں۔ اس جنگ جوئی میں کوئی براہ راست طور پر شریک ہے اور کوئی بالواسطہ طور پر۔ مسلمانوں کے محبوب رہنما اقبال نے اس ذہن کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا : تیغوں کے سایہ میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا مسلم نو جوان آج کل ساری دنیا میں گن اٹھائے ہوئے ہیں اور دنیا بھر کے مسلم دانشور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page