فکر اسلامی
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
اور علما اس کو عملاً جہاد کہہ کر یا کم از کم خاموش رہ کر اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔ ان نوجوانوں کا ترانہ ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہے : دل میں ہے اللہ کا خوف ہاتھ میں ہے کلاشینکوف یہ جنگ جويانہ اسلام یقینی طور پر خدا اور رسول کا اسلام نہیں۔ خدا اور رسول کا اسلام رحمت کلچر پیدا کرتا ہے، نہ کہ گن کلچر۔ پھر اس قسم کا اسلام کہاں سے آیا۔ یہ نظریاتی طور پر اسی لٹریچر سے ماخوذ ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ موجودہ زمانہ میں اس پر مزید اضافہ اسلام کی وہ انقلابی تعبیر ہے جو سید قطب اور سید ابوالاعلیٰ مودودی جیسے لوگوں نے پیش کی ہے۔ قدیم لٹریچر میں یہ چیز صرف فکری کمی کے درجہ میں تھی، مگر جدید سیاسی اور انقلابی تشریح نے اس میں اضافہ کر کے اس کو فکری برائی کے درجہ تک پہنچا دیا۔ مذکورہ تفصیل سے یہ بات بخوبی طور پر واضح ہوتی ہے کہ ہمارے کتب خانہ کا بیشتر ذخیرہ زمانی حالات کے زیر اثر تیار ہوا ہے۔ اس لیے اس نے آج اپنی مناسبت کھو دی ہے ۔ جدید انسانی ذہن کے لیے ان کے اندر سامان اطمینان موجود نہیں۔ اگر ہم اپنی جدید نسلوں کو دوبارہ اسلام کی سچی روح پر اٹھانا چاہتے ہیں تو ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس لٹریچر کی مذکورہ کمی کا اعتراف کریں، اور پھر نیا صحت مند لٹریچر لوگوں کے مطالعہ کے لیے تیار کریں۔ یہ لٹریچر اصلاً قدیم ذخیرہ ہی پر مبنی ہوگا۔ وہ ہرگز اس سے بے نیاز ہو کر تیار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اپنی ترتیب و انداز کے اعتبار سے وہ زمانی اسلوب اور عصری زبان کا حامل ہوگا۔ تاکہ وہ آج کے انسان کے لیے ذہنی خوراک بن سکے۔ مسائل قدیم، دلائل جدید دار العلوم دیوبند کے سابق مہتمم مولانا قاری محمد طیب صاحب (1983-1895ء) جو حکیم الامت کے نام سے مشہور ہیں ، ان کا ایک طویل مقالہ میں نے پڑھا۔ یہ پورا مقالہ ”فکر اسلامی کی تشکیل جدید “ کے موضوع پر تھا۔ مگر اس میں مجھے اصل سوال

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader